1946 کی عبوری حکومت میں وزیرِ داخلہ بننے والے سردار ولبھ بھائی پٹیل نے برطانوی راج کے انٹیلی جنس نظام کو کانگریس کے مفاد میں استعمال کیا۔ مختلف مورخین اور محققین کے مطابق پٹیل نے انٹیلی جنس رپورٹس کے باوجود آر ایس ایس اور فرقہ وارانہ تشدد سے متعلق بعض سفارشات کو نظرانداز کیا

دوسری عالمی جنگ کے بعد ہندوستان پر برطانیہ کی ڈھیلی پڑتی گرفت کے تناظر میں آزادی اور اقتدار کی منتقلی تک کے لیے دو ستمبر 1946 کو ایک عبوری حکومت بنی، جس کے سربراہ تو جواہر لال نہرو تھے، مگر سب سے طاقتور عہدے دار تھے وزیرِ داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل۔
وزارتِ داخلہ محض پولیس اور امن و امان کا محکمہ نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ولبھ بھائی پٹیل کو برطانوی ہندوستان کے پورے خفیہ اطلاعاتی نظام تک رسائی حاصل ہو گئی تھی۔
یوں بھی مورخ سَیم ڈالرمپل کے مطابق پُر شکن پیشانی والے پٹیل طویل عرصے سے کانگریس کے سب سے مؤثر منتظم اور مشکل کام انجام دینے والے رہنما تھے۔
اپنی کتاب ’شیٹرڈ لینڈز‘ میں سَیم لکھتے ہیں کہ وہ کام نکالنے کا ہنر جانتے تھے۔
’اصولوں کے معاملے میں ان کا طرزِ عمل نہرو سے کہیں زیادہ عملی اور سخت تھا؛ جہاں نہرو اصولی تحفظات میں الجھ سکتے تھے، پٹیل اکثر اُن ہی اصولوں کو عملی سیاست کی راہ میں حائل رکاوٹ سمجھ کر آگے بڑھ جاتے تھے۔‘
ابتدا میں مسلم لیگ نے حکومت کا بائیکاٹ کیا تھا لیکن اکتوبر میں بانیِ پاکستان محمد علی جناح نے لیاقت علی خان کو وزیرِ خزانہ اور، حیرت انگیز طور پر، بنگال کے دلت رہنما جوگندر ناتھ منڈل کو وزیرِ قانون نامزد کیا۔ یوں کانگریس اور مسلم لیگ ایک ہی عبوری حکومت میں شریک تو ہو گئی تھیں، مگر ان کے درمیان بد اعتمادی اور کشمکش برقرار تھی۔
اسی بد اعتمادی اور کشمکش کے پس منظر میں پٹیل نے اقتدار کی منتقلی کے آخری مرحلے میں برطانوی راج کا خفیہ نظام سنبھالا تھا۔
دھیرج پرمیشا چایا اپنی کتاب ’انڈیا انٹیلی جنس کلچر اینڈ سٹریٹیجک سرپرائزز: سپائینگ فار ساؤتھ بلاک‘ میں لکھتے ہیں کہ 1945 تک، جب ہندوستانیوں کو اقتدار میں شریک کرنا ناگزیر دکھائی دینے لگا، برطانوی حکام نے انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے مستقبل اور اس کے حساس ریکارڈ کے تحفظ کی فکر شروع کر دی۔
’پہلے ہندوستانیوں کو انٹیلی جنس سرگرمیوں اور رپورٹس سے دور رکھنے کا فیصلہ ہوا، پھر آئی بی کے ریکارڈ کو اندرونی اور بیرونی حصوں میں تقسیم کر کے بیرونی ریکارڈ لندن منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی۔‘
دھیرج پرمیشا چایا کے مطابق ’فیصلہ یہ بھی ہوا کہ اگر آئی بی کی سربراہی کسی ہندوستانی کے ہاتھ میں آئے تو حساس ریکارڈ ’محفوظ‘ یا تلف کر دیا جائے۔ چنانچہ دو ستمبر 1946 کو عبوری حکومت کے اقتدار سنبھالنے تک اہم ریکارڈ یا تو لندن پہنچا دیے گئے یا پھر جلا دیے گئے۔‘
’شملہ میں ریکارڈ جلانے کے لیے لگائی گئی آگ مبینہ طور پر تین دن تک بھڑکتی رہی۔‘
دھیرج کے مطابق عبوری حکومت کے تحت سردار پٹیل نے وزارتِ داخلہ سنبھالی تو انھوں نے وائسرائے لارڈ ویول سے مذاقاً کہا کہ ’ڈائریکٹر آئی بی، نارمن سمتھ نے سب سے دلچسپ فائلیں تباہ کر دی ہیں۔‘
پٹیل کے سوانح نگار راج موہن گاندھی کے مطابق، ویول نے پوچھا، ’آپ آئی بی کے سربراہ کے ساتھ کیسے نباہ کر رہے ہیں؟‘
پٹیل نے جواب دیا: ’بہت اچھے، انھوں نے تمام قابلِ اعتراض کاغذات تباہ کر دیے ہیں۔‘
ویول نے جواب میں کہا: ’ہاں، میں نے انھیں ایسا ہی کرنے کو کہا تھا،‘ جس پر دونوں ہنس پڑے۔
پٹیل نے 29 مئی 1949 کو فرانسیسی ہفت روزہ ’لے کورئیر دے زاند‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’جب میں وزیرِ داخلہ بنا تو میری فائل اور کانگریس کے تمام ارکان کی فائلیں پہلے ہی تباہ کی جا چکی تھیں، کیونکہ جب میں نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ ان کا خیال میرے بارے میں کیا تھا تو مجھے بالکل کچھ نہیں ملا۔ انھوں نے [برطانویوں نے] ہمیں اپنے ماضی کے اقدامات، اپنے طریقۂ کار یا اپنی خفیہ تنظیموں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دیں؛ مختصراً، انھوں نے ہمیں کچھ بھی معلوم نہیں ہونے دیا۔‘
دھیرج کے مطابق آزادی کی جدوجہد کے دوران ایک بہترین منتظم کے طور پر پٹیل کی شہرت بڑی حد تک خفیہ انٹیلی جنس کے مؤثر استعمال کی مرہونِ منت تھی۔
’سنہ 1928 کی بارڈولی ستیہ گرہ کی شاندار کامیابی کے نتیجے میں پٹیل کانگریس کے اہم رہنماؤں میں شامل ہوئے تھے۔‘
تب گجرات کے علاقے بارڈولی میں لگان میں 22 فیصد اضافے کے خلاف سردار پٹیل نے کسانوں کی کامیاب عدم تشدد تحریک کی قیادت کرتے ہوئے انھیں ٹیکس دینے سے انکار پر متحد کیا۔
مؤرخ ہندول سین گپتا نے لکھا کہ یہیں پٹیل نے اس فن کو کامل کرنا شروع کیا جسے انھیں اپنی شناخت کا حصہ بنانا تھا، یعنی برطانوی حکومت کے نظام کے اندر مخبروں کا ایسا نیٹ ورک تشکیل دینا، اسے پروان چڑھانا اور استعمال کرنا، جو ایسی اہم انٹیلی جنس فراہم کرتا جس سے کانگریس کی مہمات کو فائدہ پہنچتا۔
وزیرِ داخلہ کا منصب سنبھالنے کے بعد پٹیل کو پہلی بار ایک منظم انٹیلی جنس ادارہ رکھنے کا اختیار حاصل ہوا تو انھوں نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی۔
فلپ فرنچ اپنی کتاب ’لبرٹی آر ڈیتھ‘ میں لکھتے ہیں کہ انھوں نے وائسرائے کی انٹیلی جنس ڈائریکٹر تک براہِ راست رسائی روک دی۔
تاہم ماؤنٹ بیٹن کی پٹیل کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد ان کی اہلیہ ایڈوینا نے ازوبل کرپس کو ایک خط میں بتایا کہ ڈکی اور میں دونوں ولبھ بھائی پٹیل کو بے حد پسند کرتے ہیں۔
’اگرچہ ہمیں اچھی طرح احساس ہے کہ وہ کس قدر غالب انداز اختیار کرتے ہیں اور ان کا طرزِ عمل کس قدر آمرانہ ہے۔ تاہم، ان کی اور ڈکی کی خوب نبھ رہی ہے اور جب وہ کسی گینگسٹر کی طرح برتاؤ کرتے ہیں تو ڈکی بھی پیچھے نہیں رہتے۔‘
سَیم لکھتے ہیں کہ پٹیل کی نظر میں ماؤنٹ بیٹن محض ’جواہر لال جی کے کھیلنے کے لیے ایک کھلونا‘ تھے۔
’انھوں نے مسلم لیگ کے اہم رہنماؤں تک خفیہ اطلاعات کی ترسیل بھی بند کر دی۔ یوں انٹیلی جنس کا وہ نظام، جو بظاہر حکومت کے ماتحت تھا، عملاً پٹیل کے سیاسی کنٹرول میں آتا چلا گیا۔‘
لیکن پٹیل کے اس کنٹرول کے نتائج کہیں زیادہ سنگین ثابت ہوئے۔
سَیم کے مطابق ان کے تقرر کے تقریباً دو ماہ بعد انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ نے مشورہ دیا کہ نیم فوجی تنظیموں پر پابندی عائد کی جائے، کیونکہ ان کے بارے میں شواہد مل چکے تھے کہ وہ ہندوستان بھر میں جاری فرقہ وارانہ قتل و غارت کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔
پٹیل نے یہ مشورہ نظر انداز کر دیا۔
سَیم نے لکھا کہ ہندو قوم پرستوں کو ناراض کرنے کے خدشے کے پیش نظر انھوں نے الٹا آر ایس ایس سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی اور تشدد بھڑکانے میں ان تنظیموں کے کردار کو کئی ماہ تک خود نہرو سے بھی پوشیدہ رکھا گیا۔
دھیرج پرمیشا چایا کے مطابق حلف اٹھانے کے دو ہی روز بعد پٹیل نے آئی بی کے سربراہ نارمن سمتھ کو حکم دیا کہ کانگریس کے انتہا پسند عناصر اور کمیونسٹوں کی جاسوسی جاری رکھی جائے۔
’مسلم لیگ کے بارے میں انٹیلی جنس جمع کرنے پر عائد پابندی بھی زیادہ دیر برقرار نہ رہی، کیونکہ پٹیل کو لیگ کے اندرونی معاملات سے باخبر رہنے کی اہمیت کا احساس تھا۔‘
دھیرج کے مطابق ’آئی بی کے ایک ذریعے کے ذریعے وہ مسلم لیگ کے اندر ہونے والی پیش رفت سے بخوبی آگاہ رہتے تھے۔‘
دھیرج کے مطابق اپریل 1947 تک نارمن سمتھ سے کہا جا چکا تھا کہ وہ انٹیلی جنس بیورو ہندوستانی قیادت کے حوالے کر دیں۔ اس وقت تک تقسیم کا فیصلہ ہو چکا تھا۔
سَیم نے لکھا کہ جلد ہی واضح ہو گیا کہ ماؤنٹ بیٹن کی وائسرائے کے طور پر مدت واضح طور پر کانگریس نواز ہونے والی تھی۔
سَیم لکھتے ہیں کہ دہلی پہنچنے کے پورے دو ہفتے بعد، پانچ اپریل 1947 کو ماؤنٹ بیٹن کی محمد علی جناح سے ملاقات ہوئی۔ مسلم لیگ کے قائد ’رسمی اور محتاط‘ انداز میں ملے۔
ایلن کیمبل جانسن 1947 میں ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ لوئس ماؤنٹ بیٹن کے پریس اتاشی اور قریبی عملے کے رکن تھے اور تاریخی ڈائری مشن وِد ماؤنٹ بیٹن (1951) کے مصنف بھی تھے۔
کیمبل کے مطابق ماؤنٹ بیٹن نے یہ تجویز پیش کی کہ اگر ہندوستان تقسیم ہونا ہے تو مذہبی طور پر ملی جلی آبادی والے صوبے، خصوصاً پنجاب اور بنگال بھی تقسیم کیے جانے چاہییں۔
یہ تجویز جناح کے لیے ناقابلِ قبول تھی۔ دونوں رہنما ملاقات سے ایک دوسرے کے بارے میں تلخ تاثر لے کر اٹھے۔
الیکس فان تنزلمان نے کتاب ’انڈین سمر‘ میں لکھا ہے کہ اپریل کے اواخر میں ماؤنٹ بیٹن نے برطانوی حکومت کو لکھا کہ پنجاب میں جاری تشدد کا انھیں واحد حل یہی دکھائی دیتا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کو الگ کر دیا جائے اور پنجاب کو بھی دونوں ملکوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے۔
فرنچ کے مطابق اس سے کچھ ہی عرصہ پہلے پٹیل کانگریس کی مجلسِ عاملہ کو اس بات پر آمادہ کر چکے تھے کہ پاکستان کا قیام اس شرط پر قبول کیا جائے کہ پنجاب کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تقسیم کر دیا جائے۔
’اس خونریزی کے درمیان پٹیل کا خیال تھا کہ مسلمانوں اور غیر مسلم برادریوں کے درمیان معمول کے تعلقات بحال کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ پاکستان سے ہندوؤں اور سکھوں کو نکال دیا جائے اور مشرقی پنجاب سے مسلمانوں کو باہر دھکیل دیا جائے۔‘
پٹیل تقسیم کو ایک ’بیمار عضو‘ کاٹ دینے سے تشبیہ دیتے اور کھلے عام کہتے تھے کہ زیادہ تر مسلمان ’انڈیا کے وفادار نہیں‘ اور انھیں ’پاکستان چلے جانا چاہیے۔‘
سَیم کے مطابق ’پٹیل نے آر ایس ایس کے کارکنوں کو تحفظ دیا، حتیٰ کہ مسلم کشی میں ملوث بعض کارکن بھی ان کے حکم پر جلد رہا ہو گئے۔‘
سَیم کے مطابق ’انٹیلی جنس رپورٹس میں آر ایس ایس کی مسلمانوں کی ’مکمل نسل کشی‘ کی منصوبہ بندی سامنے آنے کے باوجود پٹیل نے تنظیم کے خلاف کارروائی کی مخالفت کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس سے ہندو عوام بھی کانگریس سے دور ہو سکتے ہیں۔ وہ آر ایس ایس کو ’محبِ وطن‘ سمجھتے تھے، جبکہ نہرو اسے خطرناک انتہا پسند تنظیم قرار دیتے اور انڈیا کو ’ہندو پاکستان‘ بننے سے روکنے پر زور دیتے تھے۔‘
سَیم کے مطابق جناح کو یقین تھا کہ پٹیل کی انٹیلی جنس اداروں پر گرفت مکمل ہے اور اشتعال انگیز مسلم مخالف رہنما صرف ان کی سرپرستی کے باعث جیل سے باہر ہیں۔
’12 اگست کو ریڈکلف نے بالآخر اپنی کھینچی ہوئی سرحد مکمل کر لی۔ لیکن اس کے چند ہی گھنٹوں بعد انھوں نے اپنے تمام کاغذات جلا دیے، 40 ہزار روپے کی فیس لینے سے انکار کیا اور برصغیر سے چلے گئے۔
سَیم کے مطابق ’اس کے بعد ماؤنٹ بیٹن نے ایک اور بے رحمانہ فیصلہ کیا۔ انھوں نے حکم دیا کہ نئی سرحد کا اعلان آزادی کے چند روز بعد کیا جائے تاکہ برطانوی حکومت کے خلاف پیدا ہونے والی نفرت کا رخ موڑا جا سکے۔ چنانچہ 14 اور 15 اگست 1947 کی نصف شب ہندوستان اور پاکستان آزاد تو ہو گئے، لیکن کسی کو معلوم نہیں تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحد کہاں واقع ہے۔‘
جس طرح پارٹیشن کونسل برطانوی ہندوستان کی تقسیم کی نگرانی کر رہی تھی، اسی طرح نئی قائم ہونے والی ریاستی امور کی وزارت کو شاہی ریاستوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اسے 565 ریاستوں کو انڈیایا پاکستان میں ضم کرنا تھا۔
جان زوبرزکی اپنی کتاب ’ڈیتھرونڈ: دی ڈاؤن فال آف انڈیا پرنسلی سٹیٹس‘ میں لکھتے ہیں کہ سردار پٹیل اور سگریٹ سے سگریٹ سلگاتے سول سرونٹ وی۔ پی۔ مینن نے ’دھمکی اور دلجوئی، ترغیب اور دباؤ، دونوں حربے آزما کر‘ چند ہی ماہ میں نقشے سے 550 سے زیادہ خود مختار ریاستوں کا وجود مٹا دیا۔
دھیرج نے لکھا ہے کہ پٹیل نے شاہی ریاستوں کے مذاکراتی مؤقف سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے انٹیلی جنس کو بہترین ممکنہ انداز میں استعمال کیا۔
’مثلاً حیدرآباد میں نظام کی ایگزیکٹو کونسل کے ایک رکن کو پٹیل نے جاسوس مقرر کیا تھا تاکہ نظام کے دربار میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں معلومات فراہم کی جا سکیں۔‘
سَیم کے مطابق سنہ 1947 میں تقسیم اور آزادی کے بعد انڈیا کے وزیرِ داخلہ کے طور پر پٹیل نے تمام فرقہ وارانہ تنظیموں پر پابندی عائد کر دی، جن میں مسلم لیگ نیشنل گارڈز اور آر ایس ایس بھی شامل تھیں۔ یہ پابندی 1949 تک برقرار رہی۔
’پابندی کے ساتھ ہی پورے ملک میں تقسیم کے فسادات میں حیرت انگیز کمی آنے لگی اور مذہبی تشدد جیسے اچانک اپنی ساکھ کھو بیٹھا۔‘
انڈین سکالر، وکیل اور سیاسی مبصرعبدالغفور مجید نورانی، جو اے۔ جی۔ نورانی کے نام سے معروف تھے، اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ پٹیل نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے انٹیلی جنس بیورو کو استعمال کیا اور اس کے اصل کردار کو مسخ کیا۔
انھوں نے لکھا: ’وزارتی ذمہ داری کی دو صورتیں ہوتی ہیں، براہِ راست اور بالواسطہ؛ اور دونوں حوالوں سے پٹیل سخت قابلِ مواخذہ تھے۔‘