K2 ایئرویز کی پرواز KTA1732 کے 7 جولائی 2026 کو پیش آنے والے المناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے پانچ کریو ارکان کے اہلِ خانہ نے ایئرلائن انتظامیہ کی جانب سے مؤثر رابطہ نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات، شفاف تحقیقات اور تمام شواہد کے تحفظ کا مطالبہ کردیا ہے۔
متاثرہ خاندانوں نے کہا ہے کہ انہیں ریکوری کے عمل، طیارے کے تکنیکی امور اور حادثے کی تحقیقات کے حوالے سے اب تک اپنے سوالات کے جوابات نہیں مل سکے۔ انہوں نے ڈیپ سی سرچ فوری طور پر جاری رکھنے، فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (FDR) اور کاک پٹ وائس ریکارڈر (CVR) سمیت دیگر اہم شواہد کی ترجیحی بنیادوں پر تلاش اور بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں طیارے کے نیوی گیشن سسٹم، تکنیکی و مینٹیننس ریکارڈ، سابقہ مسائل، ڈسپیچ ہسٹری اور گزشتہ پروازوں کے ریکارڈ کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے K2 ایئرویز کے سی ای او طارق مجید راجا سے مکمل تعاون اور حکومت سے اپیل کی ہے کہ ضرورت پڑنے پر ان کی پاکستان میں دستیابی یقینی بنانے کے لیے قانونی اقدامات کیے جائیں۔
متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان سے رابطے اور زیرِ التوا معاملات کے حل کے لیے فوری طور پر ایک سینئر فوکل پرسن مقرر کیا جائے۔ علاوہ ازیں، انہوں نے طیارے و کریو کی انشورنس اور ان عوامل کا جائزہ لینے کی بھی اپیل کی جو انتظامی یا آپریشنل فیصلوں پر اثرانداز ہوئے ہوں۔
خاندانوں نے وضاحت کی کہ ان کے مطالبات کا مقصد کسی فرد یا انتظامیہ پر الزام لگانا نہیں بلکہ ایک آزادانہ اور شفاف تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لانا ہے، کیونکہ یہ معاملہ قومی ہوابازی کے تحفظ اور سول ایوی ایشن پر عوامی اعتماد سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے تمام حفاظتی سوالات کے حل ہونے تک مناسب احتیاطی اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔