اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے مہینے میں پاکستانی فری لانسرز کی برآمدی آمدن ساڑھے 17 کروڑ ڈالر (175.44 ملین ڈالر) رہی، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں 5.5 کروڑ ڈالر (54.88 ملین ڈالر) زیادہ ہے۔
ماہرین کے مطابق ملک میں فری لانسرز کی آئی ٹی ایکسپورٹ کے ذریعے آمدن میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ابراہیم امین کا کہنا ہے کہ نوجوان گھر بیٹھے ڈجیٹل صلاحیتوں کے ذریعے ملک کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ کما رہے ہیں۔ تاہم، عالمی سطح پر خود کو منوانے اور ترقی کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے نوجوانوں کی تکنیکی اور ڈجیٹل مہارتوں میں مزید بہتری لانا ہوگی۔
صنعت سے وابستہ ماہرین نے زور دیا ہے کہ نوجوانوں کو بزنس ڈیولپمنٹ، کمیونیکیشن اور کلائنٹ مینجمنٹ جیسی صلاحیتوں کی تربیت فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
اس سلسلے میں ابراہیم امین نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن پہلی بار فری لانسرز کی خدمات کا اعتراف کرنے کے لیے جلد ایک تقریب کا انعقاد کرنے جا رہی ہے، جس میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے افراد کو ایوارڈز سے نوازا جائے گا۔