پاکستان میں جرمنی کی سفیر اِنَا لیپل نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آر سی سی آئی) کا دورہ کیا، جہاں صدر آر سی سی آئی عثمان شوکت، سینئر نائب صدر خالد فاروق قاضی، نائب صدر فہد برلاس، ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان اور مختلف کاروباری شعبوں کے نمائندوں نے ان کا استقبال کیا۔
اس موقع پر صدر آر سی سی آئی عثمان شوکت نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان تجارتی و اقتصادی روابط مزید مستحکم بنانے کے لیے جرمن ٹریڈ ڈیسک کے قیام کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹریڈ ڈیسک پاکستانی کمپنیوں اور کاروباری افراد کو جرمنی میں نئی منڈیوں، کاروباری مواقع اور تجارتی شراکت داریوں کے حصول میں معاونت فراہم کرسکتا ہے۔
عثمان شوکت نے پاکستان جرمنی جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے قیام کی تجویز بھی دی اور کہا کہ اس اقدام سے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان روابط، نیٹ ورکنگ اور معلومات کے تبادلے کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ زراعت و ایگری ٹیک، آئی ٹی و سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، فن ٹیک، اسمارٹ اور توانائی مؤثر تعمیرات، فارماسیوٹیکلز، قیمتی پتھروں و معدنیات، کان کنی، ویلیو ایڈیشن اور ایس ایم ایز سمیت متعدد شعبوں میں پاکستان اور جرمنی کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
صدر آر سی سی آئی کے مطابق جرمنی یورپی یونین میں پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 2.5 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان کی جرمنی کو برآمدات تقریباً 1.7 ارب ڈالر جبکہ درآمدات تقریباً 880 ملین ڈالر ہیں۔ انہوں نے پاکستانی برآمدات کے فروغ کے لیے جی ایس پی پلس فریم ورک کے حوالے سے جرمنی کی مسلسل حمایت کو سراہا۔
کاروباری برادری کے ساتھ انٹرایکٹو سیشن سے خطاب کرتے ہوئے جرمن سفیر اِنَا لیپل نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی، صحت و سماجی تحفظ، نجی شعبے کی ترقی اور فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
جرمن سفیر نے پاکستانی ایس ایم ایز کو عالمی منڈیوں سے منسلک کرنے کے لیے بین الاقوامی تجارتی نمائشوں میں شرکت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے ماحول دوست اور پائیدار پیداواری طریقوں کے فروغ پر بھی زور دیا۔
اِنَا لیپل نے پاکستانی کاروباری برادری کی مختلف مشکلات کے باوجود ثابت قدمی کو سراہا اور کہا کہ جی ایس پی پلس سے متعلق امور پر مزید پیش رفت اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔