وزیر دفاع خواجہ آصف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی مؤقف سپریم کورٹ کے سامنے رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اگر ایک قیدی کو نجی اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دی جائے گی تو مستقبل میں دیگر قیدی بھی اسی نوعیت کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ نواز شریف سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں کو بھی سرکاری اسپتالوں میں علاج کیلئے بھیجا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک موقع پر ڈاکٹروں نے نواز شریف کے آپریشن کے دوران پی ٹی آئی کے حامی ایک ڈاکٹر کو موبائل فون سے ویڈیو بناتے ہوئے پکڑا تھا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے میں حکومت کو اپنا مؤقف پیش یا رجسٹر کرانے کی گنجائش موجود ہوئی تو حکومت ضرور اپنا مؤقف سامنے رکھے گی۔
انہوں نے پی ٹی آئی کے سابق دور حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت اپوزیشن کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا جاتا تھا اور کس قسم کی زبان استعمال کی جاتی تھی، یہ سب کے سامنے ہے۔