برطانیہ کے شہر شورہم بائی سی کے ساحل کے قریب پکنک کے لیے آنے والے فلسطینی نژاد خاندان کے تین افراد سمندر میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے، جبکہ ایک کم سن بیٹی تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کردی گئی۔
سسیکس پولیس کے مطابق حادثے میں 55 سالہ حسن الخواس، ان کی 37 سالہ اہلیہ زینا علین اور 14 سالہ بیٹی سارا الخواس جان کی بازی ہار گئیں۔
حسن الخواس فلسطینی نژاد اور برطانوی شہری تھے۔ ریسکیو ٹیموں، کوسٹ گارڈ اور پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سمندر سے چار افراد کو نکالا، جن میں سے تین کو موقع پر ہی مردہ قرار دیا گیا جبکہ چوتھی لڑکی کو شدید تشویشناک حالت میں اسپتال پہنچایا گیا۔
پولیس کے مطابق واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور ابتدائی شواہد سے یہ ایک حادثہ معلوم ہوتا ہے۔ حکام کو کسی تیسرے فریق کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ پولیس نے ان اطلاعات کی بھی تصدیق نہیں کی کہ 14 سالہ سارا مچھلی پکڑنے کے جال میں پھنس گئی تھی۔
تاہم برطانیہ میں فلسطینی فورم کے چیئرمین عدنان حمیدان کے مطابق دستیاب معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ خاندان تیز لہروں اور پانی کے شدید بہاؤ میں پھنس گیا تھا۔ ان کے مطابق سارا کو بچانے کے لیے والد سمندر میں گئے، جب وہ خود مشکل میں پڑے تو ان کی اہلیہ اور دوسری بیٹی بھی انہیں بچانے کے لیے پانی میں اتر گئیں، جس کے نتیجے میں افسوسناک حادثہ پیش آیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب برطانیہ میں شدید گرمی کے باعث بڑی تعداد میں لوگ ساحلوں، دریاؤں اور دیگر آبی مقامات کا رخ کر رہے ہیں۔
لندن اسکول آف ہائجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کی تحقیق کے مطابق رواں سال برطانیہ میں کم از کم 35 افراد ڈوبنے کے واقعات میں جان گنوا چکے ہیں، جن میں 8 اموات صرف جولائی کے دوران ہوئیں۔