امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کے دوران شمالی کوریا نے سمندر کی جانب 10 سے زائد کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغ دیے، جس کے بعد جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے ہنگامی سیکیورٹی اجلاس طلب کرتے ہوئے اس اقدام کی شدید مذمت کی اور اپنی فوج کو مکمل طور پر تیار رہنے کا حکم جاری کیا ہے۔
جنوبی کوریا کی عسکری قیادت اور وزارتِ دفاع نے اس کارروائی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے پیانگ یانگ سے ایسی تسلسل سے کی جانے والی سرگرمیاں فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ میزائل پیانگ یانگ کے علاقے سے جزیرہ نما کوریا کے مشرق میں داغے گئے، جس کے بارے میں جنوبی کوریا کے وزیر دفاع آہن گیو بیک کا کہنا ہے کہ یہ غالباً 600 ملی میٹر ملٹیپل راکٹ لانچر سسٹم (KN-25) کے میزائل ہیں، جنہیں سرحد کے قریب بھی تعینات کیے جانے کا امکان ہے اور جنوبی کوریا ان کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ شمالی کوریا اس سسٹم کے ذریعے ٹیکٹیکل جوہری وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت کا دعویٰ بھی کرچکا ہے۔
میزائل فائر کرنے کا یہ واقعہ شمالی کوریا کے قائد کم جونگ ان کی بہن کم یو جونگ کی جانب سے امریکا اور جنوبی کوریا کی مشقوں کی مذمت کے فوراً بعد سامنے آیا، باوجود اس کے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان مشقوں میں امریکی شرکت کو نمایاں حد تک کم کرنے کا حکم دیا تھا۔