ڈاک ورکرز (ملازمت کے ضابطہ) ایکٹ 1974 کی منسوخی کے بل کے خلاف کراچی ڈاک لیبر بورڈ کے ورکرز نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کے ڈی ایل بی ہیڈ آفس سے کراچی پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی۔
ریلی میں ڈاک ورکرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے 1974 کے ایکٹ کی منسوخی کی شدید مخالفت کرتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔
کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے سے ممتاز مزدور رہنماء پیپلز لیبر بیورو سندھ کے صدر حبیب الدین جنیدی ، کے-الیکٹرک کے معروف رہنماء محمد اخلاق خان ، عوامی نیشنل پارٹی کے جنرل سکریٹری یونس بونیری ، جمعیت علماء اسلام کے مولانا نور الحق، مولانا جبرائیل ، کراچی ڈاک لیبر بورڈ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کنوینر و سی بی اے کے صدر احمد سعید، ڈپٹی کنوینر و پیپلز لیبر بیورو کراچی کے سیکریٹری جنرل حسین بادشاہ، ڈپٹی کنوینر و معروف ٹریڈ یونین رہنماء عبدالرزاق میمن ، سی بی اے کےجنرل سیکریٹری داؤد مہمند اور دیگر مزدور رہنماؤں نے خطاب کیا۔
مقررین نے ڈاک ورکرز ایکٹ 1974 کی منسوخی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی صورت اس قانون کو ختم نہیں ہونے دیں گے۔
مزدور رہنماؤں کا کہنا تھا کہ 1974 کا ایکٹ ڈاک ورکرز کے حقوق اور روزگار کے تحفظ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، جو ڈاک ورکرز اور ایمپلائیرز دونوں کو ریگولیٹ کرتی ہے جبکہ بذات خود ایپلائیر نہیں ہے۔اس لیے اس کی منسوخی کی کوشش کسی صورت قابل قبول نہیں۔
واضح رہے کہ پارلیمانی سیکریٹری برائے بحری امور ڈاکٹر درشن نے وزیرِ بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کی جانب سے ڈاک ورکرز (ریگولیشن آف ایمپلائمنٹ) ایکٹ 1974 کی منسوخی کا بل، 2026 قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے۔