امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوسکی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ کینیڈا نے امریکی اشیا پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات ختم کردیئے گئے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی اشیا پر ڈالر کے بدلے ڈالر کے حساب سے جوابی ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
مارک کارنے کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے مذاکرات کے آخری مرحلے میں شرائط تبدیل کرنا غیر منصفانہ اور ناقابل قبول ہے۔ کینیڈین وزیراعظم نے واضح کیا کہ اوٹاوا اپنے تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
دوسری جانب امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری کینیڈا پر عائد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کینیڈا معاہدے میں طے شدہ شرائط سے پیچھے ہٹ گیا۔
خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر عائد 50 فیصد ٹیرف نافذ ہوچکا ہے، جس کے بعد کینیڈا نے بھی امریکی درآمدات کے خلاف جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
تجارتی تنازع میں مزید شدت کے باعث دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت، کاروباری سرگرمیوں اور شمالی امریکی مارکیٹ پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔