سابق امریکی وزیر دفاع لیون پینیٹا نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف معاشی دباؤ کی پالیسی سے امریکا کو کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوگی اور تہران کو محض دباؤ کے ذریعے ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
ایک بیان میں لیون پینیٹا نے کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے اقدامات امریکا پر اقتصادی دباؤ بڑھا رہے ہیں، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ اقدامات ایران کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کرسکیں گے۔
سابق امریکی وزیر دفاع نے ٹرمپ انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ تہران پر مزید دباؤ بڑھانے کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کیا جائے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔
دوسری جانب امریکی فوج کے سابق افسر سیڈریک لائٹن نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ نے ایران تک خوراک اور طبی سامان کی رسائی میں رکاوٹیں پیدا کیں تو یہ اقدام جنگی جرم کے زمرے میں آسکتا ہے۔
سیڈریک لائٹن کے مطابق ایران پر اس نوعیت کی پابندیوں یا رکاوٹوں کے نتیجے میں عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آسکتا ہے اور اس سے دیگر ممالک کے امریکا کے بارے میں رویے میں بھی تبدیلی آنے کا خدشہ ہے۔
امریکی ماہرین کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور ایران کے خلاف معاشی دباؤ مزید بڑھانے کے حوالے سے امریکی اقدامات پر بحث جاری ہے۔