ایران کی اعلیٰ قیادت کا اہم اجلاس، امریکی معاشی دباؤ سے نمٹنے کی حکمت عملی پر غور

image

ایران کے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژہ ای کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں امریکا کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ملاقات میں ملک کی تازہ سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ امریکی دباؤ کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور باہمی تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔

تینوں اعلیٰ حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ معاشی دباؤ کے اثرات کو عوام تک کم سے کم منتقل ہونے دیا جائے گا۔ اجلاس میں کم آمدنی والے اور کمزور طبقات کو درپیش مشکلات کم کرنے کے لیے عملی اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور قومی مفادات کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیا گیا۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران دشمن کے سامنے ذلت آمیز انداز میں نہیں جھکے گا، تاہم مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور بات چیت کا راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔

مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای نے مختلف مواقع پر واضح کیا ہے کہ ایران کو موجودہ ’’نہ جنگ، نہ امن‘‘ کی صورتحال سے باہر نکلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے فیصلے حکمت، تدبر، دانشمندی اور قومی وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنا ہوں گے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ موجودہ سیاسی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی اتحاد، ریاستی اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور عوامی مشکلات میں کمی کو ترجیح دینا ناگزیر ہے۔

ایران کو جنگ اور بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے باعث داخلی سطح پر بھی متعدد معاشی مشکلات کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ادارہ جاتی تعاون اور عوامی ریلیف کے اقدامات پر توجہ مرکوز کرلی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US