ٹوٹی ہوئی گردن کی ہڈی اور پسلیوں پر زخم کے نشانات: راولپنڈی کی حنا جاوید کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کیا پتا چلا؟

راولپنڈی میں مبینہ طور پر شوہر اور گھریلو ملازم کے ہاتھوں قتل ہونے والی 45 سالہ خاتون حنا جاوید کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اُن کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی پائی گئی ہے جبکہ اُن کی پسلیوں اور کولہے کی ہڈی پر زخم کے نشانات موجود ہیں۔

انتباہ: اس تحریر میں ایسی تفصیلات شامل ہیں جو کچھ قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

راولپنڈی میں مبینہ طور پر شوہر اور گھریلو ملازم کے ہاتھوں قتل ہونے والی 45 سالہ خاتون حنا جاوید کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اُن کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی پائی گئی ہے جبکہ اُن کی پسلیوں اور کولہے کی ہڈی پر زخم کے نشانات موجود ہیں۔

اس کیس کی تفتیش پر مامور پولیس ٹیم کے ایک اہلکار کے مطابق راولپنڈی پولیس کو ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہو گئی جس سے پتا چلتا ہے کہ حنا جاوید کے دل کے اِرد گرد خون کا ایک لوتھڑا موجود ہے۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ کا واضح تعین نہیں کیا گیا ہے۔

تفتیشی افسران کے مطابق موت کی وجہ کا حتمی تعین کرنے کے لیے لاش سے حاصل نمونے فرانزک لیب بھجوائے گئے ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق حنا جاوید کا پوسٹ مارٹم اُن کے قتل کے 12 گھنٹے کے بعد کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ حنا جاوید کے قتل کا مقدمہ اُن کے بھائی فہد جاوید کی مدعیت میں راولپنڈی کے تھانہ سول لائنز میں درج ہے اور اس مقدمے میں حنا جاوید کے شوہر، سُسر اور ایک گھریلو ملازم کو نامزد کیا گیا ہے۔

پولیس نے گذشتہ روز ملزم شوہر اور گھریلو ملازم کو راولپنڈی کی مقامی عدالت میں پیش کر کے اُن کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا۔

اس کیس کی ایف آئی آر کے مطابق حنا جاوید کی لاش 20 اگست کی صبح اُن کے گھر کے باتھ روم سے اس حالت میں برآمد ہوئی تھی کہ اُن کے دونوں ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے، منھ پر کپڑا تھا جبکہ گلے میں بجلی کی تار بندھی ہوئی تھی جسے شاور کے ساتھ باندھا گیا تھا۔

ملزمان کی جانب سے کسی وکیل کا کوئی بیان تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔

تفتیشی ٹیم میں شامل اہلکار کے مطابق جسمانی ریمانڈ کے دوران ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ بھی کروائے جائیں گے، جبکہ پولی گرافک اور دیگر ٹیسٹس کے لیے انھیں لاہور لے جایا جائے گا۔

پولیس اہلکار کے مطابق اس مقدمے میں نامزد تیسرے ملزم، جو کہ حنا جاوید کے سُسر ہیں، کا ابتدائی بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے، جس میں انھوں نے بتایا کہ حنا جاوید اور اُن کے شوہر کے درمیان شادی کے فوراً بعد ہی مختلف معاملات پر جھگڑے شروع ہو گئے تھے۔

تاہم تفتیشی ٹیم میں شامل اہلکار کہتے ہیں کہ چونکہ سُسر کافی عمر رسیدہ ہیں، اس لیے ابھی انھیں حراست میں نہیں لیا گیا ہے۔ تاہم انھیں پابند کیا گیا ہے کہ وہ اس مقدمے کی تفتیش مکمل ہونے تک وہ علاقہ چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔

’جو بھیانک منظر میں نے دیکھا، اُسے شاید پوری زندگی نہ بھول سکوں‘

بی بی سی نیوز اردو کے لیے صحافی محمد زبیر خان سے بات کرتے ہوئے حنا جاوید کے بھائی اور مدعی مقدمہ فہد جاوید ملک نے بتایا کہ ’جو منظر میں نے دیکھا، اسے شاید پوری زندگی نہ بھول سکوں۔ یہ انتہائی خوفناک تھا۔ ہم شدید صدمے اور ذہنی دباؤ سے گزر رہے ہیں اور سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ سب کیسے ہوا۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ پولیس فی الحال اُن سے تعاون کر رہی ہے، تاہم وہ چاہتے ہیں کہ اس معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہوں اور انھیں انصاف ملے۔

اُن کے مطابق اُن کی بہن حنا جاوید کی شادی نومبر 2025 میں ملزم سے ہوئی تھی۔

فہد جاوید نے بتایا کہ 20 اگست 2026 کو صبح تقریباً چھ بجے انھیں اُن کے بہنوئی کے گھر سے ایمرجنسی کی اطلاع ملی اور وہ تقریباً 7:23 پر اپنی بہن کی سُسرال پہنچے تو دیکھا کہ اُن کی بہن کمرے کے باتھ روم میں مردہ حالت میں پڑی تھیں۔

’حنا کے دونوں ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے، منھ پر کپڑا تھا، گلے میں سفید بجلی کی تار بندھی ہوئی تھی جو اُوپر شاور کے ساتھ باندھی گئی تھی۔ منھ سے خون اور جھاگ نکل رہا تھی، جبکہ فرش پر بھی خون موجود تھا۔‘

ایف آئی آر میں فہد جاوید نے الزام عائد کیا ہے کہ اُن کی بہن کو اُن کے شوہر نے اپنے ملازم اور والد کے ساتھ مل کر قتل کیا ہے اور ’انھیں شبہ ہے کہ مقتولہ کو پہلے زہریلی چیز دی گئی اور پھر اذیت دے کر قتل کیا گیا۔‘

فہد جاوید نے ایف آئی آر میں الزام عائد کیا ہے کہ اُن کے بہنوئی ’آئے روز حنا کو تشدد کا نشانہ بناتے تھے اور اس سے قبل ملزم کی پہلی اہلیہ نے بھی تشدد کی وجہ سے تنگ آ کر اُس سے طلاق لے لی تھی۔‘

’حنا خاندان کو جوڑنے والی اور محبت بھری شخصیت تھیں‘

حنا جاوید کی فرسٹ کزن صباح بانو ملک نے بی بی سی اردو کی منزہ انوار سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حنا تین بہن بھائیوں میں درمیانی بیٹی تھیں۔ ان کی ایک بڑی بہن اور ایک چھوٹا بھائی تھا۔

صباح کے مطابق حنا بہت گرمجوش شخصیت کی مالک تھیں۔ ’وہ محبت اور اپنائیت سے بھری ہوئی تھیں، ہمیشہ خاندان کے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتی تھی۔ خاندان کے بزرگوں سے رابطے میں رہنا، انھیں فون کرنا اور ان کی خیریت معلوم کرنا ان کی عادت تھی۔‘

انھوں نے بتایا کہ حنا اپنے والدین کی دیکھ بھال کرتی تھیں اور اُن کی واحد کفیل تھیں۔ ان کی والدہ کو الزائمر کی بیماری بہت زیادہ بڑھ چکی ہے، جبکہ اس کے والد پارکنسنز کے مریض ہیں۔

صباح کے مطابق حنا ہر روز اپنے والدین سے ملنے جاتی تھیں۔ وہ ان کے روزمرہ معمول کا حصہ تھا۔ ’یہاں تک الزائمر کی بیماری کے اس انتہائی آخری مرحلے میں بھی، اُن کی والدہ یہ جان کر خوش ہو جاتی تھیں کہ یہ وہ وقت ہے جب حنا ان سے ملنے آنے والی ہے۔‘

’حنا بہت محبت کرنے والی انسان تھی۔ لوگ ان کے ساتھ بہت آسانی سے گھل مل جاتے تھے۔ اس کے چہرے پر کبھی کسی کے لیے ناگواری نظر نہیں آتی تھی، وہ نہ کسی کو بُرا بھلا کہتی تھیں، نہ طنزیہ باتیں کرتی تھیں۔ وہ ایک بہت ہی مہربان، صاف دل اور نفیس انسان تھی۔‘

صباح نے بتایا کہ حنا بہت محنتی بھی تھیں۔ انھوں نے تقریباً 15 سال تک قومی اسمبلی میں کام کیا اور اپنے کام کے لیے بہت سنجیدہ اور پُرعزم تھیں۔

’میرے والد اکثر حنا کی منت کرتے کہ پلیز میرے ساتھ چلا کرو میں تمھیں دفتر ڈراپ کر دیا کروں گا، مگر وہ کہتی تھیں ’میرا اپنا سٹم ہے‘ پھر وہ خود پیدل نکل جاتی، اپنے کام کرتی اور اپنا سب کچھ خود سنبھالتی تھی۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ شادی کے بعد انھوں نے حنا کی زندگی میں کیا تبدیلی نوٹ کی یا کیا کبھی حنا نے کسی مشکل کا ذکر کیا؟

صباح بانو ملک نے بتایا حنا پہلے ہی ایک نسبتاً خاموش اور نجی زندگی پسند کرنے والی انسان تھیں، لیکن شادی کے بعد وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ خاموش اور اپنے اندر سمٹ گئی تھیں۔ ’وہ پہلے کی طرح اپنے بارے میں یا اپنی زندگی کے بارے میں زیادہ باتیں نہیں کرتی تھی۔ اور اس کی شخصیت کی وہ پہلے جیسی رونق بھی کچھ کم ہو گئی تھی۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ حنا کی شادی کو ابھی 10 ماہ بھی نہیں ہوئے تھے۔ ’گھر والے اس سے پوچھتے، ’آپ خوش ہیں؟‘ لیکن وہ اس سوال کا سیدھا جواب دینے کے بجائے کسی نہ کسی طرح بات بدل دیتی تھی۔‘

حنا جاوید کے اہلِ خانہ کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’دو روز قبل حنا جاوید اپنے ہی گھر میں قتل کر دی گئیں۔ مقدمہ اُن کے بھائی فہد جاوید ملک کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں حنا کے شوہر کو نامزد کیا گیا ہے۔‘

خاندان نے پاکستان کے عدالتی اور قانونی نظام پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انصاف ضرور ملے گا، تاہم آنے والے دن نہایت اہم ہیں کیونکہ تفتیش کی شفافیت ہی انصاف کی ضمانت ہو گی۔‘

خاندان کا کہنا ہے کہ ’حنا ایک بیٹی، بہن اور دوست تھیں، ایک نوجوان خاتون جن کے خواب اور مستقبل ان سے چھین لیا گیا۔‘

اہلِخانہ نے عوام اور سول سوسائٹی کی جانب سے اظہارِ ہمدردی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ چاہتے ہیں حنا کو اُن کی شخصیت اور زندگی کے حوالے سے یاد رکھا جائے، نہ کہ صرف اُن کے قتل کے ذریعے۔‘

خاندان کا کہنا ہے کہ جزوی احتساب دراصل کوئی احتساب نہیں ہوتا۔ اہلِ خانہ نے پنجاب پولیس اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ’کسی دباؤ یا تاخیر کے بغیر تفتیش مکمل شفافیت کے ساتھ کی جائے۔‘

خاندان نے کہا ہے کہ ’گھریلو تشدد اور خواتین کے خلاف تشدد کوئی ذاتی معاملہ نہیں بلکہ سنگین جرم ہے اور اسے اسی طرح لیا جانا چاہیے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US