آزاد جموں و کشمیر کی نومنتخب قانون ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں بھارت میں تعینات امریکی سفیر کے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بیان کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی گئی۔
قرارداد میں امریکی سفیر کی جانب سے جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینے کے بیان کو افسوسناک اور تاریخی حقائق کے منافی قرار دیا گیا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ کسی امریکی سفارتی نمائندے کی جانب سے تنازع کشمیر میں ایک فریق کے مؤقف کی حمایت انتہائی مایوس کن ہے، جس سے واشنگٹن کے مسئلہ کشمیر کے حل میں غیر جانب دار اور تعمیری کردار پر سوالات اٹھتے ہیں۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے، جس کا بنیادی تعلق کشمیری عوام کے حق خودارادیت سے ہے۔
ارکان اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ امریکا کسی ایک فریق کے بیانیے کی حمایت کرنے کے بجائے بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے اصولوں کی پاسداری کرے۔
قرارداد میں مزید کہا گیا کہ جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کسی بھی سفارتی بیان سے تبدیل نہیں کی جاسکتی، جبکہ امریکا اور عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
اس موقع پر اسپیکر آزاد کشمیر اسمبلی نے رولنگ دی کہ قرارداد امریکی حکومت اور امریکی سفارتخانے کو ارسال کی جائے۔
بعد ازاں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس 25 اگست کو دن 2 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔