وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں کرپشن کے خاتمے اور امن و امان کی صورتحال مزید بہتر بنانے کے لیے بدعنوان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق خصوصی اجلاس ہوا جس میں آئی جی پنجاب نے صوبے میں جرائم کی صورتحال اور حالیہ کمی کے رجحان پر بریفنگ دی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب میں ڈکیتی کے واقعات میں 54 فیصد، قتل میں 35 فیصد، کار ڈکیتی میں 46 فیصد جبکہ موٹر سائیکل چوری کے واقعات میں 53 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ لاہور میں بھی قتل کے واقعات 43 فیصد، ڈکیتی 32 فیصد، کار ڈکیتی 43 فیصد اور موٹر سائیکل چوری کے واقعات 54 فیصد کم ہوئے ہیں۔
مریم نواز شریف نے کرپشن کے حوالے سے شہرت رکھنے والے پولیس افسران کو ایس ایچ او تعینات نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو بدعنوان عناصر کی چھانٹی کے لیے ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دے دی۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ جس ضلع میں جرائم کی شرح زیادہ ہوگی، وہاں متعلقہ ڈی پی او سے جواب طلبی کی جائے گی۔ انہوں نے بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بچے اور خواتین ان کی ریڈ لائن ہیں، ان کے خلاف جرائم میں کسی کو معافی نہیں دی جائے گی۔
اجلاس میں بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لیے جامع پلان طلب کرلیا گیا جبکہ ڈولفن پولیس کا آپریشنل کنٹرول متعلقہ تھانوں سے منسلک کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
پنجاب پولیس کو باڈی کیم سے لیس کرنے کے لیے 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن مقرر کردی گئی۔ اس کے علاوہ قیدیوں کی وینز میں جی پی ایس اور کیمروں کی تنصیب کی منظوری دیتے ہوئے قیدیوں کے فرار کے واقعات پر سخت کارروائی کی ہدایت کی گئی۔
وزیراعلیٰ نے نقب زنی کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر کارروائی اور شیخوپورہ میں جرائم کے مکمل خاتمے کے لیے آپریشن کلین اپ کا حکم بھی دیا۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ صوبے میں امن و امان حکومت کی اولین ترجیح ہے عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری ہر صورت پوری کی جائے گی۔ انہوں نے پولیس حکام کو جرائم کے خاتمے، شہریوں کے تحفظ اور بدعنوان عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔