امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غیر ملکی ہنرمند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ کارکنوں کے لیے H-1B ویزا فیس میں غیر معمولی اضافے کی تجویز پیش کردی۔
مجوزہ ضابطے کے تحت نئے H-1B ویزا کے لیے 1 لاکھ 3 ہزار 265 ڈالر فیس عائد کی جاسکتی ہے جو پاکستانی روپے میں موجودہ شرح کے حساب سے تقریباً 2 کروڑ 87 لاکھ روپے بنتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے مجوزہ ضابطہ جاری کردیا ہے جس پر عوام کو 30 دن تک رائے دینے کا موقع دیا جائے گا۔ حتمی ضابطہ رواں سال کے اختتام تک نافذ ہونے کا امکان ہے۔
ماضی میں H-1B ویزا کی فیس مختلف حالات کے مطابق تقریباً 2 ہزار سے 5 ہزار ڈالر تک ہوتی تھی تاہم نئی تجویز منظور ہونے کی صورت میں فیس میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔
H-1B ویزا امریکی کمپنیوں کو ٹیکنالوجی، تعلیم، تحقیق اور دیگر خصوصی شعبوں میں غیر ملکی ماہرین کو ملازمت دینے کی اجازت دیتا ہے۔ ہر سال 65 ہزار ویزے جبکہ اعلیٰ تعلیمی ڈگری رکھنے والوں کے لیے مزید 20 ہزار ویزے مختص ہوتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ نئی فیس اور سخت شرائط کا مقصد H-1B پروگرام کے غلط استعمال کو روکنا اور زیادہ مہارت رکھنے والے کارکنوں کو ترجیح دینا ہے۔ تاہم کاروباری اداروں اور دیگر فریقوں نے اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔
اگر نئی فیس حتمی شکل اختیار کرلیتی ہے تو H-1B ویزا کے ذریعے امریکا میں ملازمت کے خواہش مند غیر ملکی ماہرین اور انہیں ملازمت دینے والی کمپنیوں پر بڑا مالی بوجھ پڑے گا۔