دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران واضح کیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا امریکا کے کسی نمائندے کی حیثیت سے نہیں تھا، بلکہ یہ دورہ پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں کا حصہ تھا۔ اس دورے کے دوران ایرانی حکام سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے اور تمام مسائل کا مذاکراتی حل تلاش کرنے پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے بحران کے حل اور علاقائی امن و استحکام کے لیے برادر ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ان سفارتی کوششوں کا بنیادی مقصد خطے میں پائیدار امن کا قیام اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے، جس پر ایرانی قیادت نے پاکستان کے مثبت اور فعال کردار کی تعریف کی ہے۔
اس کے علاوہ ترجمان دفتر خارجہ نے اعلان کیا کہ وزیراعظم پاکستان بشکیک میں منعقد ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی کانفرنس میں شرکت کریں گے اور وہاں مختلف عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان نے ایس سی او کی ایک سال کے لیے چیئرمین شپ سنبھال لی ہے اور ملک 2027 میں اسلام آباد میں اس اہم سربراہی کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔