امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ہلاکت نہیں ہوئی بلکہ وہ شدید زخمی ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق ان کے جسم کے بائیں حصے، بازو اور ٹانگ کو سنگین نقصان پہنچا ہے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آسکی۔
ایک انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ انہیں مجتبیٰ خامنہ ای کی ہلاکت پر یقین نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی سپریم لیڈر واقعی جاں بحق ہوچکے ہیں تو ایرانی حکام اس معاملے کو غیر معمولی انداز میں پیش کر رہے ہیں، کیونکہ اہم فیصلوں کے لیے اب بھی سپریم لیڈر سے منظوری لینے کا حوالہ دیا جارہا ہے۔
ٹرمپ نے ایران پر امریکی دباؤ کو بھی مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوجی اور معاشی اقدامات اپنے مطلوبہ نتائج کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان کے بقول ایران کے ساتھ جاری جنگ میں امریکا ایک بڑی کامیابی حاصل کرنے کے قریب ہے۔
آبنائے ہرمز کے بارے میں بھی امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ سمندری راستہ مکمل طور پر فعال ہے اور امریکی بحریہ نے وہاں موجود بارودی سرنگیں صاف کردی ہیں۔ تاہم دوسری جانب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر لانے کے لیے ایران اور عمان کے درمیان عارضی بحری راہداری سے متعلق بات چیت جاری ہے، جبکہ تجارتی سرگرمیوں کی مکمل بحالی پر صورتحال تاحال واضح نہیں۔