مائیکرو سافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے اپنے تازہ بلاگ پوسٹ میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے حوالے سے تشویشناک پیشگوئی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر کی حکومتیں اس کے ہمہ گیر اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اے آئی اور روبوٹکس میں تیز رفتار پیشرفت کے نتیجے میں متعدد ملازمتیں ختم ہو جائیں گی، جس کے پیش نظر حکومتوں کو چاہیے کہ وہ قدرتی خطوں کی حفاظت کی طرز پر مخصوص شعبوں، خصوصاً طبی اور انسانی نگہداشت سے متعلق روزگار کو صرف انسانوں کے لیے مختص کردیں تاکہ ٹیکنالوجی ان کی جگہ نہ لے سکے۔
بل گیٹس کے مطابق، اے آئی ٹیکنالوجی قومی سلامتی کے علاوہ تعلیم، صحت، توانائی، مالیاتی نظام، ٹرانسپورٹیشن اور قانون کے نفاذ سمیت زندگی کے تمام شعبوں کو بری طرح متاثر کرسکتی ہے، جس کے لیے نائن الیون کے بعد کی جانے والی سیکیورٹی تبدیلیوں سے بھی زیادہ بڑے اور جامع عالمی و ملکی فریم ورک کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس ٹیکنالوجی کے نظم و نسق کے لیے امریکہ اور چین کے درمیان عالمی تعاون پر بھی زور دیا۔
یہ بیان بل گیٹس کی جانب سے جیفری اپسٹن اسکینڈل میں نام آنے اور اس سے تعلق پر پچھتاوے کے اظہار کے بعد پہلا عمومی تحریری بیان ہے۔
اس سے قبل مارچ 2025 میں بھی انہوں نے پیشگوئی کی تھی کہ ایک دہائی کے اندر اے آئی ٹیکنالوجی ڈاکٹروں اور اساتذہ سمیت بیشتر انسانی ماہرین کی جگہ سنبھال لے گی۔ تاہم، ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ طویل المدتی بنیادوں پر یہ پیشرفت کاروباری ہفتے کے دورانیے کو مختصر کر کے روایتی کل وقتی ملازمتوں پر انسانی انحصار کو کم کر دے گی۔