پمز آتشزدگی: پارلیمان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ، تحقیقات کا مطالبہ

image

اسلام آباد کے پولی کلینک اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال میں آتشزدگی کے دلخراش واقعے پر سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شدید بحث اور گرم جوشی دیکھنے میں آئی۔

ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان کے لیے عہدہ یا وزارت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اس واقعے میں ان کا کوئی قصور یا غفلت ثابت ہوتی ہے تو وہ فوراً اپنی وزارت قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے دوران اسی فلور سے 80 مریضوں کو محفوظ طریقے سے ریسکیو کیا گیا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کے تمام ملوث افراد کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور وضاحت کی کہ اس معاملے پر صرف ایک ہی سرکاری تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جبکہ پمز انتظامیہ کی جانب سے الگ سے کوئی کمیٹی نہیں بنی۔

وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے پارلیمان کو بتایا کہ پمز واقعے پر پوری قوم غمزدہ ہے۔ انہوں نے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے ٹھوس اور قابلِ عمل تجاویز دینے کی اپیل کی۔ وزیرِ قانون نے بتایا کہ وزیرِ اعظم نے اطلاعات ملتے ہی فوری ایکشن لیا ہے اور سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں ایک اعلٰی سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے جو 7 دنوں کے اندر اپنی مفصل رپورٹ پیش کرے گی۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر اظہر کیانی کی زیرِ نگرانی ایک اور کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو پمز اسپتال کو عصری تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کرنے کی سفارشات مرتب کرے گی۔

دوسری جانب، پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے حکومت کی جانب سے قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹیوں پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پورے ایوان کی سینیٹ کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا جو 40 دنوں میں اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کرے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ سرکاری کمیٹیوں میں لوگ ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انخلاء کے تمام راستے بند تھے اور سیکیورٹی و فائر سیفٹی کا کوئی معقول نظام موجود نہیں تھا۔

انہوں نے سی ڈی اے اور اسپتال کی متضاد رپورٹس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صرف سیکریٹری کی معطلی کو نا کافی قرار دیا اور اسپتال میں مریضوں کی منتقلی کے حوالے سے ابتر صورتحال پر شدید تنقید کی۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے بھی واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے موقف اختیار کیا کہ واقعے کی ذمہ داری صرف نچلے عملے پر نہیں بلکہ وزیرِ اعظم، کابینہ اور بجٹ منظور کرنے والوں پر بھی عائد ہوتی ہے کیونکہ صحت کے شعبے کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

سینیٹر علی ظفر نے مطالبہ کیا کہ سینیٹ کی ایک بااختیار کمیٹی قائم کی جائے جس کی سربراہی اپوزیشن کے پاس ہو تاکہ اسپتالوں میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مؤثر اور یکساں ایس او پیز (SOPs) تیار کیے جاسکیں۔

واضح رہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے سانحہ پمز میں 14 نومولود کی ہلاکت کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کردیا، دونوں ایوانوں میں خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تحاریک منظور کرلی گئی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US