نیپال میں گلیشیئر ٹوٹنے سے تباہی: 750 افراد ہلاک، سیکڑوں لاشوں کی اجتماعی تدفین

image

نیپال کے ضلع چتوان میں گلیشیئر ٹوٹنے سے آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ہلاک ہونے والے سیکڑوں نامعلوم افراد کی اجتماعی تدفین کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام نے دیوگھاٹ کے جنگلات میں سیکڑوں قبریں کھودی ہیں تاکہ گلنے سڑنے والی لاشوں کی وجہ سے عوامی صحت کو درپیش خطرات کو روکا جاسکے۔ ابتدائی مرحلے میں 96 نا قابلِ شناخت لاشیں دفن کی جا چکی ہیں جبکہ مزید کی تدفین کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

نیپال اور چین کی سرحدی وادیوں میں شدید سیلاب اور تباہی کے باعث اب تک تقریباً 750 افراد ہلاک اور 3 ہزار سے زائد لاپتا ہو چکے ہیں۔ امدادی ٹیمیں، پولیس اور سرکاری اہلکار ملبے سے مزید لاشیں نکالنے اور ان کا ریکارڈ مرتب کرنے میں مصروف ہیں۔ مستقبل میں لواحقین کی جانب سے شناخت کے امکان کو برقرار رکھنے کے لیے ہر تدفین کی جگہ کو نشان زد کیا جا رہا ہے، جبکہ ڈی این اے کے نمونے اور تصاویر محفوظ کی جا رہی ہیں۔ بھارت اور چین کی فرانزک ٹیمیں بھی ان تمام تر مراحل میں نیپالی حکام کو معاونت فراہم کر رہی ہیں۔

نیپال کے ضلع چتوان میں گلیشیئر ٹوٹنے سے آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ہلاک ہونے والے سیکڑوں نامعلوم افراد کی اجتماعی تدفین کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام نے دیوگھاٹ کے جنگلات میں سیکڑوں قبریں کھودی ہیں تاکہ گلنے سڑنے والی لاشوں کی وجہ سے عوامی صحت کو درپیش خطرات کو روکا جا سکے۔ ابتدائی مرحلے میں 96 نا قابلِ شناخت لاشیں دفن کی جاچکی ہیں جبکہ مزید کی تدفین کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

علاقے کے اسپتالوں اور عارضی مردہ خانوں پر لاشوں کے شدید دباؤ کے باعث صورتِ حال انتہائی ابتر ہے۔ برت پور اسپتال اور دیگر عارضی مراکز میں گنجائش سے کہیں زیادہ لاشیں موجود ہیں، جنہیں خراب ہونے سے بچانے کے لیے خشک برف، ایئر کنڈیشنرز اور صنعتی کولنگ یونٹس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب چتوان ایکسپو سینٹر کے باہر اپنے لاپتا پیاروں کی تلاش میں آئے سیکڑوں افراد جمع ہیں، جنہیں تصاویر کے ذریعے شناخت کا موقع دیا جا رہا ہے۔ ریسکیو ورکرز اور پولیس اہلکار سخت بدبو اور ہولناک مناظر کے باوجود چوبیس گھنٹے لاشوں کو سنبھالنے اور امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US