متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین اور وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے آبادی کے تناسب سے ملک میں نئے انتظامی صوبوں اور تیسرے بلدیاتی نظام کو ناگزیر قرار دیا ہے۔
ڈیلس میں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ چار صوبوں کی لسانی تقسیم کو ملک میں پولرائزیشن کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بہتری کے لیے اب انتظامی بنیادوں پر صوبے تشکیل دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ جس طرح نئے اضلاع اور ڈویژنز بنتے ہیں اسی طرح صوبوں کی تعداد میں اضافہ بھی آئینی عمل کا حصہ ہونا چاہیے۔
کراچی کی تاریخی حیثیت اور سندھ حکومت پر گفتگو کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ قیامِ پاکستان کے وقت کراچی ملک کا دارالحکومت تھا اور بعد میں اسے سندھ میں شامل کرنے کے طریقہ کار پر تاریخی اور آئینی سوالات موجود ہیں۔
انہوں نے پیپلز پارٹی کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نہ جمہوریت کی ٹھیکیدار ہے اور نہ سندھ کی مالک، بلکہ صوبے میں جاگیردارانہ سیاست حاوی ہے۔ ان کے مطابق کراچی پورے ملک کی معیشت کا سہار ا ہے اور اس شہر کے خلاف سازش دراصل پورے پاکستان کے خلاف سازش کے مترادف ہے۔
جماعت کی داخلی صورتحال اور ووٹر بینک کی تقسیم کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے ایم کیو ایم رہنما نے واضح کیا کہ چند رہنماؤں کے الگ ہونے سے جماعتیں تقسیم نہیں ہوتیں، کیونکہ کارکن اور عوام آج بھی متحد ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 80 سے 90 فیصد کارکنان اب بھی ایک ساتھ ہیں اور جبر کے تحت دور ہونے والے بھی حالات بدلنے پر واپس آسکتے ہیں۔
الطاف حسین سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کسی سیاسی خاندان کی نہیں بلکہ ایک نظریاتی تحریک ہے جسے کارکن چلا رہے ہیں۔
فارم 47 کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم چار دہائیوں سے کراچی سے جیت رہی ہے اور ان کی اصل پہچان فارم 47 نہیں بلکہ 1947 ہے۔