اسلام دنیا کا ایک سائنسی اور عظیم ترین مذہب ہے۔ میری خواہش ہے کہ میں زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ حج پر جاؤں۔ اسلام انسانیت سے بھرپور مذہب ہے لیکن معاشرے میں اس کے بارے میں غلط تصورات پھیلائے جا رہے ہیں۔ یہ مذہب انسان کو معاشرے میں زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتا ہے۔
قرآن صرف مسلمانوں کے لیے محدود نہیں ہے بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے قرآن پوری انسانیت کے لیے دیا۔ کوئی بھی شخص قرآن پڑھ سکتا ہے اور میں بھی اسے پڑھنے کے لیے تیار ہوں۔
میں اکثر ہندو مٹھوں اور مندروں میں نہیں جاتا، لیکن تمام مذاہب کی تعلیمات کا احترام کرتا ہوں۔ صرف مسجد جاکر ’اللہ اکبر‘ کہنا یا مندر چلے جانا ہی کافی نہیں، اصل چیز یہ ہے کہ انسان تمام مذاہب کی اچھی تعلیمات اور اصولوں کو اپنی زندگی میں اپنائے۔ ہمیں مذہبی جنون اور ذات پات کی تفریق سے بچنا چاہیے۔
بھارت کی ریاست کرناٹک کے وزیرِ تعلیم باسواراج رائریڈی کے اسلام سے متعلق ان خیالات نے ملکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کوپنل کے علاقے ککنور میں مسلم برادری کی جانب سے منعقدہ اجتماعی شادیوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رائریڈی نے اسلام کو انسانیت اور اعلیٰ اقدار کا حامل مذہب قرار دیا اور حج کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔
ان کے بیان کا سب سے زیادہ وائرل ہونے والا حصہ اسلام کو دنیا کا ’عظیم ترین مذہب‘ قرار دینا اور ہندو مذہبی مقامات پر باقاعدگی سے نہ جانے کا ذکر تھا۔ بیان سامنے آتے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں نے کانگریس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ ووٹ بینک کی سیاست اور مسلمانوں کی خوشامد میں مصروف ہے۔
مرکزی وزیر پرہلاد جوشی، کرناٹک بی جے پی کے صدر بی وائی وجیندر، اپوزیشن رہنما آر اشوکا اور مرکزی وزیر مملکت شوبھا کرندلاجے نے رائریڈی کے بیان کو ہندو جذبات کے لیے توہین آمیز قرار دیا۔ بی جے پی رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ ایک وزیر کو تمام مذاہب کے ساتھ یکساں رویہ اختیار کرنا چاہیے تاہم رائریڈی نے اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہوں نے صرف اسلام کی بعض اعلیٰ تعلیمات کا ذکر کیا ہے
دوسری جانب بی جے پی رہنماؤں نے معاملے کو کانگریس کی مبینہ ’اقلیتی خوشامد‘ کی پالیسی سے جوڑ دیا۔ بی وائی وجیندر نے کہا کہ انہیں مسلمانوں کی حمایت پر اعتراض نہیں، لیکن وزیر کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انہیں ہندوؤں نے بھی ووٹ دیے ہیں۔