موٹاپے کو دائمی بیماری سمجھ کر علاج کیا جائے، ماہر ڈاکٹر تنویر عباس

image

دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد افراد کے موٹاپے کا شکار ہونے کے پیش نظر لاہور میں 31 اگست کو طبی ماہرین نے موٹاپے کو ایک دائمی بیماری کے طور پر علاج کرنے اور پاکستان میں اس کے طبی و جراحی علاج تک رسائی وسیع کرنے پر زور دیا ہے۔

موٹاپا صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق 2022ء میں دنیا بھر کے 43 فیصد بالغ افراد زائد وزن جبکہ 16 فیصد موٹاپے کا شکار تھے، جو 1990ء کے مقابلے میں دگنی سے بھی زیادہ شرح ہے۔

پاکستان میں موٹاپے کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے 2022ء کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے 23 فیصد بالغ افراد موٹاپے کا شکار تھے، جو گزشتہ ایک دہائی کے دوران 16.4 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ ماڈلڈ اندازوں کے مطابق اب تقریباً 60 فیصد پاکستانی بالغ افراد زائد وزن جبکہ 25 فیصد موٹاپے کا شکار ہیں، جبکہ گزشتہ 20 برس کے دوران موٹاپے کی شرح تین گنا سے بھی زیادہ ہوچکی ہے۔

طبی ماہرین کے اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ افراد اس وقت موٹاپے کا شکار ہیں، جن میں خواتین اور شہری علاقوں کے رہائشی زیادہ متاثر ہیں۔ بچوں میں 40 فیصد زائد وزن یا موٹاپے کا شکار ہیں، جبکہ موجودہ رجحانات برقرار رہنے کی صورت میں خدشہ ہے کہ پاکستانی بچوں میں سے 57 فیصد 35 سال کی عمر تک موٹاپے کا شکار ہوسکتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے تعاون سے کیے گئے اسٹیپس (STEPS) سروے میں کم جسمانی سرگرمی اور پھلوں و سبزیوں کا ناکافی استعمال موٹاپے کے اہم خطرات میں شامل قرار دیا گیا تھا۔ ڈبلیو ایچ او موٹاپے کو دائمی اور بار بار لاحق ہونے والی بیماری قرار دیتا ہے، جس کا تعلق ٹائپ ٹو ذیابیطس، امراض قلب اور دیگر غیر متعدی بیماریوں سے ہے۔

اس صورتحال کے تناظر میں چزل ہیلتھ نے 31 اگست کو لاہور میں ’اوبیسٹی ایوننگ‘ کے انعقاد کے ساتھ اپنی ’ہفتہ اوبیسٹی آگاہی‘ مہم اختتام پذیر کی، جس میں مریضوں، طبی ماہرین اور معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ تقریب میں موٹاپے سے متعلق آگاہی، تعلیم اور جدید علاج کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مقررین نے موٹاپے کو صرف طرز زندگی یا قوت ارادی کی کمزوری کا نتیجہ سمجھنے کے رجحان سے دور ہونے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مریضوں کے لیے انفرادی نوعیت کی طبی نگہداشت اور سائنسی شواہد پر مبنی علاج ضروری ہے۔

اس شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں میں ڈاکٹر تنویر عباس بھی شامل ہیں، جنہیں پاکستان کے کم عمر ترین اور سب سے زیادہ تعداد میں باری ایٹرک سرجری کرنے والے سرجن کے طور پر جانا جاتا ہے۔

ڈاکٹر عباس نے چزل ہیلتھ کے ذریعے موٹاپے کے علاج کے لیے ایک خصوصی مرکز قائم کیا ہے جہاں مریضوں کو ایک ہی چھت تلے جامع طبی معائنہ اور علاج کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ مرکز میں وزن کم کرنے کے لیے مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل طبی طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے، جس میں جدید باری ایٹرک سرجری اور وزن کم کرنے کے طریقہ علاج پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔

اس موقع پر ڈاکٹر تنویر عباس نے کہا کہ ’’ہمیں موٹاپے کو قوت ارادی کی ناکامی سمجھنا بند کرنا ہوگا، یہ ایک دائمی بیماری ہے۔ مناسب طبی اور جراحی معاونت کے ذریعے مریض صرف وزن کم ہی نہیں بلکہ طویل مدت تک بہتر صحت بھی حاصل کرسکتے ہیں۔‘‘

’اوبیسٹی ایوننگ‘ پاکستان میں موٹاپے کو صحت عامہ کے اہم مسئلے کے طور پر اجاگر کرنے کی چزل ہیلتھ کی کوششوں میں ایک اور اہم قدم ہے۔ مختلف نسلوں میں موٹاپے کی شرح میں مسلسل اضافے کے پیش نظر ’ہفتہ اوبیسٹی آگاہی ‘ مہم جیسی سرگرمیاں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ موٹاپے سے متعلق زیادہ سے زیادہ آگاہی، بروقت تشخیص و مداخلت اور مؤثر علاج تک وسیع تر رسائی کی ضرورت ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US