امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ ساتویں مہینے میں داخل ہونے کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی میزائل حملوں کے بعد سخت ردِعمل کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کو سخت جواب دے گا، تاہم انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ تازہ جھڑپوں کا مطلب لازماً مکمل جنگ نہیں۔
تازہ صورتِ حال کے مطابق امریکی فوجی حکام ایک ایسی حکمتِ عملی پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت ایران کے خلاف وقفے وقفے سے محدود فوجی حملے کیے جائیں تاکہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت محفوظ رکھی جا سکے اور ایران پر مسلسل دباؤ قائم رہے، لیکن مکمل جنگ سے گریز کیا جائے۔
اس سے قبل امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی جزیرے لارک پر حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغے۔
امریکا نے مستقیم فوجی کارروائیوں کے ساتھ معاشی دباؤ میں بھی اضافہ کردیا ہے اور ایران کے تیل کی فروخت میں مدد دینے والے 60 اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ معاشی دباؤ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا اور اپنے مفادات کا دفاع جاری رکھے گا۔ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک روزانہ 100 جہازوں سے کم ہو کر صرف 7 رہ گئی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ’نہ جنگ نہ امن‘ کی یہ پالیسی کسی بھی وقت وسیع تر علاقائی تصادم میں تبدیل ہوسکتی ہے۔