نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے ایک خاندان کو چار دن تک امید اور خوف کے درمیان رکھا۔ 21 سالہ سرکاری ملازم ایوش کھڑکا کے والدین اور رشتہ دار سیلاب کے بعد مسلسل اسے زندہ تلاش کرتے رہے، مگر آخرکار انہیں معلوم ہوا کہ حکام ایک لاش پہلے ہی برآمد کرچکے تھے جس کے ایوش کی ہونے کا قوی امکان تھا۔
ایوش نے سیلاب سے ایک رات پہلے گھر والوں سے بات کی تھی۔ اگلی صبح اس کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ آن لائن نظر آیا تو خاندان کو امید ہوئی کہ شاید وہ محفوظ مقام پر پہنچ گیا ہے۔ تاہم 26 اگست کو علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات کے بعد اہل خانہ نے اس کی تلاش شروع کردی۔
ایوش کے چچا دو دن تک نیپالی فوج کی بیرک کے قریب موجود رہے، جہاں امدادی سرگرمیاں جاری تھیں۔ انہوں نے اہلکاروں کو ایوش کا نام، اس کے ادارے اور دیگر معلومات فراہم کیں، لیکن انہیں کوئی واضح خبر نہ مل سکی۔
دوسری جانب ایوش کی خالہ لکشمی تھاپا تقریباً 200 کلومیٹر دور چتوان کے ایک امدادی کیمپ میں اسے تلاش کر رہی تھیں۔ اس مرکز پر سیلابی ریلوں سے ملنے والی لاشیں لائی جارہی تھیں۔ 27 اگست کو وہاں لاشوں کی تصاویر اسکرین پر دکھائی گئیں تاکہ لواحقین اپنے پیاروں کی شناخت کرسکیں۔
اسی دوران لکشمی کی نظر ایک تصویر پر پڑی۔ انہیں تقریباً 70 فیصد یقین ہوا کہ تصویر میں موجود شخص ایوش ہی ہے۔ انہوں نے تصویر فوراً چچا اور دیگر رشتہ داروں کو بھیجی، تاہم ایوش کی غمزدہ والدہ کو یہ تصویر جان بوجھ کر نہیں دکھائی گئی۔
چار دن تک جاری رہنے والی تلاش بالآخر ایک ایسے سچ پر ختم ہوئی جس کا خاندان کو خدشہ تھا۔ ایوش کی شناخت کے بعد اس کی آخری رسومات ادا کردی گئیں۔
نیپال کا یہ تباہ کن سیلاب نہ صرف بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا باعث بنا بلکہ ہزاروں خاندانوں کو اپنے پیاروں کی خبر کے انتظار میں بھی چھوڑ گیا۔