ہم ایران پر ایک اور حملے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، اور اگر دوبارہ کارروائی کی ضرورت پڑی تو یہ مہم زیادہ دیر نہیں چلے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کسی بھی وقت تہران پر نئی اور فیصلہ کن ضرب لگانے کے لیے تیار ہے۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اپنے اتحادیوں، بالخصوص اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں موجود مغربی ممالک کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایران کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھ سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کو روکا نہ گیا تو اس کے اثرات صرف اسرائیل یا خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یورپ اور امریکی شہروں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ امریکی فضائی حملوں میں ایران کے اہم فوجی اثاثوں اور بنیادی تنصیبات کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ تہران کی جانب سے ریڈار اور میزائل نظام کی دوبارہ تعمیر کی کوششیں بھی جاری تھیں۔
امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران ایک ایسے راکٹ کی تیاری میں بھی مصروف تھا جس کے ذریعے سمندر یا زمین پر بارودی سرنگیں بچھائی جا سکتی تھیں تاہم امریکی کارروائی میں اسے بھی تباہ کردیا گیا۔
اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے اسرائیلی شہریوں کو امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ خود اسرائیل کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے۔
خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب لارک جزیرے پر ایرانی راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا جبکہ ایران کی جانب سے اردن، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی اڈوں کی سمت میزائل داغے گئے۔ امریکی حکام کے مطابق ان میزائلوں کو راستے میں ہی روک لیا گیا۔
مسلسل حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باوجود ٹرمپ کا کہنا ہے کہ صورتحال ان کے قابو میں ہے اور ایران کے خلاف جاری مہم کو جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔