سرلا بھٹ قتل کیس: یاسین ملک کا 25 صفحات پر مشتمل انقلابی بیان حلفی، اہلیہ نکاح سے آزاد

image

خاتون نرس سرلا بھٹ کے قتل کے الزام میں بھارت کی تہاڑ جیل میں قید جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک کی جانب سے 25صفحات پر مشتمل بیان حلفی تحریر کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

معروف صحافی حامد میر کے بلاگ کے مطابق یاسین ملک نے اپنے بیان حلفی میں لکھا ہے کہ "میں سرلا بھٹ کے قتل سے انکار کرتا ہوں "لیکن آگے چل کر یاسین ملک نے عدالت کو کہاہے کہ "مجھےپھانسی دیدی جائے"۔

بیان حلفی کے آخر میں انہوں نے اپنی اہلیہ مشعال ملک کو نکاح سے آزاد کرتے ہوئے بڑی عزت اور پیار کے ساتھ اُن سے درخواست کی ہے کہ "ابھی آپ کی بہت عمر پڑی ہے آپ ایک نئی زندگی کا آغاز کریں۔

بیٹی رضیہ سلطانہ کو تاکید کی ہے کہ" اپنی دادی کو روزانہ سرینگر فون کیا کرو تاکہ انہیں اس مشکل وقت میں تنہائی کا احساس نہ ہو"۔

یہ بیان حلفی دراصل ایک انقلابی حریت پسند کے ضمیر کی آواز اور اس کی آخری وصیت ہے۔ یہ ایک بیانِ حلفی نہیں بلکہ بھارتی جمہوریت کے خلاف چارج شیٹ ہے اس چارج شیٹ میں بیان کردہ المیہ پوری دنیا کو چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ یاسین ملک کو نہ تو کوئی خرید سکا نہ ہی جھکا سکا۔ وہ بڑے وقار اور جرات کے ساتھ پھانسی کا مطالبہ کر رہا ہے کیونکہ یہ پھانسی دراصل اس کے قاتلوں کی موت بنے گی۔

یاد رہے کہ یاسین ملک پر 36سال قبل ایک ہندو نرس سرلا بھٹ کے قتل کے الزام میں سرینگر کی ایک عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہاہے۔ سرلا بھٹ 19اپریل 1990ء کو قتل ہوئی تھی۔

جبکہ یاسین ملک 8 اپریل 1990ء کو بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ایک چھاپے کے دوران شدید زخمی ہوچکے تھے اور 26 اپریل 1990ء کو بھارتی ٹی وی دور درشن ان کے انتقال اور خفیہ تدفین کی خبر بھی نشر کر چکا تھا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US