”میں نے اپنے ملک کے لیے کئی بار کامیابی حاصل کی، لیکن آج اپنے گھر کا خرچ چلانے کے لیے ٹیکسی چلاتا اور سبزیاں فروخت کرتا ہوں۔ میں سرکاری ملازمت اور مالی مدد کے لیے کئی مرتبہ حکام سے رابطہ کرچکا ہوں، مگر ابھی تک کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔ کئی مقابلوں میں شرکت کے لیے مجھے قرض لینا پڑا، جسے میں ٹیکسی چلا کر اور سبزیاں بیچ کر واپس کرتا رہا۔“
بھارتی ریاست جھارکھنڈ سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ تھرو بال کھلاڑی امر دیپ کمار کی کہانی کھیلوں میں کامیابی کے باوجود درپیش مالی مشکلات کی عکاسی کرتی ہے۔ وہ بھارت کے لیے مختلف بین الاقوامی مقابلوں میں چار مرتبہ گولڈ میڈل جیت چکے ہیں، لیکن اس وقت اپنے خاندان کی کفالت کے لیے ٹیکسی چلانے کے ساتھ والد کے سبزی کے کاروبار میں بھی ہاتھ بٹاتے ہیں۔
امر دیپ نے 13 سال کی عمر میں کھیل کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے 2015 میں ملائیشیا میں ایشین جونیئر تھرو بال چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل حاصل کیا، جبکہ بعد ازاں 2017 میں کھٹمنڈو، 2019 میں بنگلورو اور 2026 میں رانچی میں ہونے والی ساؤتھ ایشین چیمپئن شپ میں بھی طلائی تمغے اپنے نام کیے۔
کھلاڑی کا کہنا ہے کہ کھیلوں کے مقابلوں میں شرکت کے اخراجات پورے کرنے کے لیے انہیں کئی مرتبہ قرض لینا پڑا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ دیگر ریاستوں کے بعض کامیاب کھلاڑیوں کو کھیلوں میں نمایاں کارکردگی پر سرکاری ملازمتیں اور دیگر سہولیات ملیں، لیکن ان کی اپنی درخواستیں اب بھی زیر التوا ہیں۔
فی الحال امر دیپ رانچی کے ارگورا چوک پر ٹیکسی چلا کر آمدنی حاصل کرتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے والد کے سبزی کے کاروبار میں مدد کرتے ہیں۔ ان کی صورتحال اس سوال کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کرنے والے کھلاڑیوں کو کھیل کے بعد معاشی تحفظ اور مناسب سرپرستی کس حد تک مل رہی ہے۔