روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے امن معاہدے کا امکان موجود ہے، تاہم یوکرینی حملوں کی وجہ سے مذاکرات کا دوبارہ آغاز دشوار ہوچکا ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ چین کے علاوہ کئی دیگر ممالک امن معاہدے کی حمایت پر تیار ہیں، مگر جنگ سے متعلق حتمی فیصلہ خود روس اور یوکرین کو ہی کرنا ہوگا۔
انہوں نے یوکرینی صدر کے اس بیان کو ریاستی دہشت گردی قرار دیا جس میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور روسی فضائی حدود سے شہری طیاروں کو دور رکھنے کی بات کی گئی تھی۔
روسی صدر کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ امن مذاکرات کی صلاحیت اور امکانات کو شدید متاثر کیا ہے۔