گلاسگو یونیورسٹی کی ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ کا زیادہ تر وقت بیٹھ کر گزارنا اور مسلسل ایک ہی جگہ موجود رہنا کینسر جیسے موذی مرض سے موت کے خطرے کو نمایاں حد تک بڑھا دیتا ہے۔
پلوس میڈیسن نامی جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں یوکے بائیو بینک کے 91 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا اوسطاً 12 سال سے زائد عرصے تک جائزہ لیا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ مسلسل بیٹھے رہنے اور کم جسمانی سرگرمی رکھنے والے افراد میں کینسر کی مختلف اقسام سے موت کا خطرہ 9 فیصد زیادہ ہوتا ہے، جن میں خصوصاً موٹاپے سے منسلک کینسر جیسے کہ جگر، گردے، لبلبے، بریسٹ، آنتوں اور تھائی رائیڈ کینسر شامل ہیں۔
تحقیق کے مطابق ہر ایک اضافی گھنٹہ بیٹھ کر گزارنا صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، تاہم اگر بیٹھنے کے دوران وقفے وقفے سے کھڑے ہونے یا ہلکی پھلکی نقل و حرکت کو عادت بنا لیا جائے تو کینسر سے موت کا خطرہ 12 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ معتدل سے سخت ورزش کینسر کے خلاف سب سے زیادہ مؤثر تحفظ فراہم کرتی ہے، لیکن روزمرہ کی ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمیاں بھی صحت کو بہتر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔