نیدرلینڈز نے اپنا اربوں ڈالر مالیت کا 86 ٹن سونا امریکہ سے نکال کر لندن کیوں منتقل کیا؟

نیدرلینڈز کے مرکزی بینک نے بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی بے چینی کے باعث اپنے سونے کے بعض ذخائر امریکہ اور کینیڈا سے منتقل کر دیے ہیں۔
سونے کی اینٹیں ایک دوسرے کے اوپر نہایت ترتیب سے رکھی گئی ہیں اور ان سے اہرام جیسی شکل بنائی گئی ہے
Reuters
امریکہ میں فروخت کیے جانے اور پھر لندن میں دوبارہ خریدے جانے والے سونے کے علاوہ 27 ٹن سے زیادہ سونا برطانیہ منتقل کیا گیا

نیدرلینڈز کے مرکزی بینک (ڈی این بی) نے تصدیق کی ہے کہ اس نے اربوں ڈالر مالیت کا سونا شمالی امریکہ سے لندن منتقل کر دیا ہے۔ بینک کے مطابق یہ فیصلہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر کیا گیا۔

ڈی این بی نے بدھ کو بتایا کہ کئی ماہ تک جاری رہنے والی ایک پیچیدہ کارروائی کے دوران 86 ٹن سونا امریکہ اور کینیڈا سے منتقل کیا گیا۔ یہ سونا اب بینک آف انگلینڈ کے پاس محفوظ رکھا گیا ہے، جہاں کسی بحرانی صورتحال میں اس کی خرید و فروخت یا منتقلی نسبتاً زیادہ آسان سمجھی جاتی ہے۔

بینک کے صدر اولاف سلیپن کے مطابق یہ اقدام ’ادارے کی مالی مضبوطی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری کو بہتر بنانے‘ کے لیے ضروری تھا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی برقرار ہے۔ تجارتی مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد دونوں ممالک ایک دوسرے کی مصنوعات پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

DNB
Reuters

ڈی این بی کے مطابق مارچ سے اگست کے درمیان نیویارک اور اوٹاوا سے 27 ٹن سونے کی اینٹیں نیدرلینڈز کے شہر زائسٹ منتقل کی گئیں۔

اس کے بعد اتنی ہی مقدار اور معیار کا سونا لندن منتقل کر دیا گیا، اور اس عمل کے دوران سونے کی اینٹوں کو پگھلانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

تاہم بینک نے یہ نہیں بتایا کہ بحرِ اوقیانوس کے آرپار اتنی بڑی مقدار میں سونا کس طریقے سے منتقل کیا گیا۔

بینک کے مطابق باقی منتقلی نیویارک میں سونا فروخت کرنے اور پھر لندن میں اسی مقدار کا سونا دوبارہ خریدنے کے ذریعے مکمل کی گئی۔

ڈی این بی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’خرید و فروخت اور جسمانی منتقلی کے عمل کو یکجا کرنے سے اس پیچیدہ آپریشن سے وابستہ خطرات کو مختلف مراحل میں تقسیم کرنے میں مدد ملی۔‘

بینک نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس کی جانب سے استعمال کی گئی اصطلاح ’جغرافیائی سیاسی بے چینی‘ سے کیا مراد ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کے باعث امریکی معیشت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے اثرات عالمی تجارت اور مالیاتی منڈیوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب کینیڈا کو امریکہ کی جانب سے فولاد، ایلومینیم، لکڑی اور آٹوموبائل سمیت اہم شعبوں پر عائد محصولات کے باعث بڑا معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اگست میں امریکہ نے تقریباً 28 ارب کینیڈین ڈالر (20 ارب امریکی ڈالر یا 15 ارب پاؤنڈ) مالیت کی کینیڈین مصنوعات پر مزید 50 فیصد محصول بھی عائد کر دیا تھا۔

ڈی این بی کے مطابق بینک آف انگلینڈ میں محفوظ سونے کو ’دنیا میں سب سے آسانی سے قابلِ تجارت سونا‘ تصور کیا جاتا ہے۔ اسی لیے کسی بھی بحرانی یا غیر یقینی صورت حال میں اس تک رسائی، امریکہ یا کینیڈا میں رکھے گئے سونے کے مقابلے میں زیادہ آسان سمجھی جاتی ہے۔

بدھ کو کیے گئے اعلان سے قبل ڈی این بی اپنے سونے کے ذخائر کا 31.3 فیصد نیویارک جبکہ 19.7 فیصد اوٹاوا میں رکھتا تھا۔ تاہم حالیہ منتقلی کے بعد دونوں ممالک میں موجود سونے کا حصہ کم ہو کر 18.5 فیصد رہ گیا ہے۔

ڈی این بی کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے اختتام پر نیدرلینڈز کے پاس سونے کے مجموعی ذخائر 612.4 ٹن تھے، جن کی مالیت تقریباً 72.2 ارب یورو تھی۔

اس منتقلی کے نتیجے میں لندن میں موجود سونے کا حصہ 18.1 فیصد سے بڑھ کر 32.1 فیصد ہو گیا ہے، جبکہ بینک کے 30.8 فیصد سونے کے ذخائر اب بھی نیدرلینڈز میں محفوظ ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US