مخالف مسلح گروہوں کے حملے یا گیس سیلنڈر اور بیٹری دھماکے: افغان طالبان ’باغیوں‘ کے خلاف بیانیے کی جنگ کیسے لڑ رہے ہیں؟

طالبان مخالف مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کی رپورٹنگ پر غیر اعلانیہ پابندی کے باوجود، جب بعض واقعات اتنے زیادہ منظرِ عام پر آ جاتے ہیں کہ انھیں چھپانا ممکن نہیں رہتا، تو طالبان اکثر اُن کی مضحکہ خیز وجوہات بتاتے نظر آتے ہیں۔ جیسے ایک حملے کے بعد دعویٰ کیا گیا کہ یہ گیس سلنڈر پھٹنے کا حادثہ تھا جبکہ دوسرے حملے کے بعد یہ دعویٰ سامنے آیا کہ یہ بیٹری پھٹنے کا حادثہ تھا۔

حالیہ مہینوں میں افغانستان میں طالبان حکام کو مخالف مسلح گروہوں کی جانب سے حملوں کا سامنا رہا ہے اور اس صورتحال کے تناظر میں طالبان سیاسی، سکیورٹی اور مذہبی دلائل کا سہارا لیتے ہوئے مسلح مزاحمت کی قانونی حیثیت اور ساکھ کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جہاں مخالف گروہوں کی جانب سے حملوں میں اضافے، خصوصاً شمالی مشرقی صوبے بدخشاں میں، کے دعوے سامنے آ رہے ہیں وہیں طالبان حکام کی جانب سے بھی انفارمیشن وارفیئر میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔

طالبان مخالف مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کی رپورٹنگ پر غیر اعلانیہ پابندی کے باوجود، جب بعض واقعات اتنے زیادہ منظرِ عام پر آ جاتے ہیں کہ انھیں چھپانا ممکن نہیں رہتا، تو طالبان اکثر اُن کی مضحکہ خیز وجوہات بتاتے نظر آتے ہیں۔ جیسے ایک حملے کے بعد دعویٰ کیا گیا کہ یہ گیس سلنڈر پھٹنے کا حادثہ تھا جبکہ دوسرے حملے کے بعد یہ دعویٰ سامنے آیا کہ یہ بیٹری پھٹنے کا حادثہ تھا۔

بعض مواقع پر طالبان مخالف گروہوں کے حملوں کا اعتراف تو کرتے ہیں، تاہم اُن پر مزید توجہ مبذول کرانے سے گریز کرتے ہیں۔

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کابل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے
Getty Images
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کابل میں دو ستمبر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

گذشتہ ماہ 28 اگست کو صوبہ لغمان میں ہونے والے ایک دھماکے کی خبر متعدد جلاوطن افغان میڈیا اداروں نے دی تھی۔ تاہم اس پر ایک مقامی طالبان عہدیدار نے مؤقف اختیار کیا کہ دھماکہ ایک رکشے میں نصب گیس سلنڈر پھٹنے کے باعث ہوا۔ تاہم طالبان مخالف گروہ ’روند سبز افغانستان‘ (یا افغانستان گرین ٹرینڈ) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں طالبان کے نو جنگجو ہلاک ہوئے۔

اسی طرح 28 اگست کو صوبہ ہرات میں ہونے والے حملے کو، جس کی ذمہ داری نیشنل ریزسٹنس فرنٹ(این آر ایف) اور ایک دوسرے مسلح گروہ نے مشترکہ طور پر قبول کی تھی، طالبان نے موٹر سائیکل کی بیٹری پھٹنے کا واقعہ قرار دیا۔

17 اگست کو مغربی کابل کے ایک سکول میں ہونے والے دھماکے کے بعد طالبان نے ابتدائی طور پر اسے دستی بم حملہ قرار دیا۔ تاہم بعد میں اُن کا کہنا تھا کہ دھماکا ایک ایسا گولہ پھٹنے کے باعث ہوا جسے ایک طالب علم سکول لے آیا تھا۔

اسی طرح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر طالبان سے وابستہ ایک اکاؤنٹ ’فیک نیوز2197‘ بھی طالبان مخالف مسلح گروہوں کے حملوں اور دعوؤں کو ’جعلی‘ قرار دیتا رہا ہے۔

طالبان شاذ و نادر ہی حملوں میں ہونے والے اپنے جانی نقصانات کا اعتراف کرتے ہیں، اس سے قطع نظر کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران متعدد مخالف مسلح گروہوں نے متعدد حملوں میں درجنوں طالبان ارکان کو ہلاک کرنے کے دعوے کیے ہیں۔

مثال کے طور پر، 13 اگست کو ایک ایسے ہی حملے میں ہلاک ہونے والے صوبہ بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد کے میئر کی تدفین طالبان نے بغیر کسی میڈیا کوریج کے انجام دی۔ یاد رہے کہ اس حملے کی ذمہ داری نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے قبول کی تھی۔

طالبان انٹیلیجنس سے وابستہ میڈیا

طالبان کی خفیہ ایجنسی سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے بھی حالیہ دنوں میں ’باغیوں کے خلاف کارروائیوں‘ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو نمایاں انداز میں اجاگر کرنے کی مہم تیز کر دی ہے۔

ان رپورٹس میں اکثر ہلاک ہونے والے مخالف جنگجوؤں یا کمانڈروں کی تصاویر شامل کی جاتی ہیں، جبکہ مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ حکومت مخالف گروہ کمزور، منتشر اور عوامی حمایت سے محروم ہیں۔

اِس کے برعکس طالبان کی حکومت کو ایک مضبوط، مستحکم اور بڑھتی ہوئی قانونی حیثیت کی حامل انتظامیہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان ذرائع ابلاغ کی جانب سے باغی گروہوں کو پاکستان اور دیگر بیرونی قوتوں سے جوڑنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔

نجی افغان اخبار ’اطلاعات روز‘ کے مطابق، طالبان کے محکمۂ انٹیلیجنس کے میڈیا ونگ نے اپنی سائیکولوجیکل (نفسیاتی) جنگی حکمت عملی کے تحت حریت ریڈیو، میثاق، وائس آف ہندوکش اور المرصاد جیسے متعدد میڈیا پلیٹ فارمز قائم کیے ہیں، جن کا مقصد 'مخالف آوازوں کو خاموش کرنا' بتایا جاتا ہے۔

یہ ذرائع ابلاغ خاص طور پر نمایاں حکومت مخالف گروہوں، یعنی نیشنل ریزسٹنس فرنٹ، افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ اور افغانستان فریڈم فرنٹ کو اپنی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

مثال کے طور پر 31 اگست کو وائس آف ہندوکش نے ایک ویڈیو، جس میں افغانستان فریڈم فرنٹ کا ایک جنگجو صوبہ غزنی میں ایک طالبان رکن کو گولی مار کر ہلاک کرتا دکھائی دیتا ہے، کو ’جعلی منظر فلمانے کی ناکام کوشش‘ قرار دیا۔

اسی طرح ان ذرائع ابلاغ نے بغلان میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے دو کمانڈروں اور سالنگ پاس میں ایک اور کمانڈر کی ہلاکت کو بھی بڑے پیمانے پر کوریج دی اور ہلاک ہونے والوں کو ’باغی‘ اور ’مجرم‘ قرار دیا۔

افغانستان میں طالبان
Getty Images
فائل فوٹو: طالبان کی خفیہ ایجنسی سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے بھی حالیہ دنوں میں 'باغیوں کے خلاف کارروائیوں' میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو نمایاں انداز میں اجاگر کرنے کی مہم تیز کر دی ہے

یکم ستمبر کو وائس آف ہندوکش نے نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے اندر مبینہ اختلافات کو نمایاں کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تنظیم کا ایک کمانڈر ’مزاحمتی محاذ کے سربراہ احمد مسعود کے ساتھ گہرے اختلافات‘ کے باعث مارا گیا ہے۔

’اندرونی تنازعات کا شکار ہونے والے کمانڈر: فائدہ کس کا؟‘ کے عنوان سے شائع ہونے والے ایک اور مضمون میں اس ادارے نے دعویٰ کیا کہ ’شر اور فساد‘ پھیلانے کے لیے لڑنے والے جنگجو اپنے اُن رہنماؤں کے مفادات کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں جو یورپ میں پُرتعیش زندگی گزار رہے ہیں۔ مضمون کے ساتھ احمد مسعود اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میخوان کی ایک تصویر بھی شائع کی گئی۔

طالبان سے وابستہ دیگر ذرائع ابلاغ، جن میں المرابط، یاد میڈیا اور حجاز فارسی شامل ہیں، نے بھی نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے ایک نمایاں کمانڈر کی ہلاکت کے بارے میں متعدد مضامین شائع کیے۔ ان میں سے ایک رپورٹ میں اس قتل کو محکمۂ انٹیلیجنس کی ’خاموش کارروائیوں‘ کا حصہ قرار دیا گیا۔

دوسری جانب ’المرصاد‘ نے مخالف مسلح گروہوں کے خلاف شائع ہونے والے مضامین کے ایک سلسلے میں مسلح مزاحمت کو اسلامی نقطۂ نظر سے ناجائز ثابت کرنے کی کوشش بھی کی۔ 29 اگست کو شائع ہونے والے ایک مضمون میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ’کسی مسلمان حکمران کے خلاف مسلح بغاوت اس وقت تک جائز نہیں ہو سکتی جب تک حکمران سے ’صریح کفر‘ کا ارتکاب ثابت نہ ہو جائے۔‘

نفسیاتی وارفیئر

27 اگست کو جاری کیے گئے ایک بیان میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے طالبان پر اپنی (این آر ایف کی) مزاحمتی تحریک کے خلاف ’جامع اور کثیرالجہتی ادراکی جنگ‘ (Cognitive War) اور نفسیاتی آپریشن شروع کرنے کا الزام عائد کیا۔

نیشنل ریزسٹنٹ فرنٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’قومی اور عوامی مزاحمت کو کچلنے میں عسکری تعطل، عوامی سطح پر قانونی و اخلاقی جواز کے فقدان اور بین الاقوامی تنہائی کا ادراک ہونے کے بعد، یہ گروہ (طالبان) اب ایک نئے منظرنامے کی طرف بڑھ رہا ہے اور اپنے اندرونی و بیرونی حامیوں کی حمایت سے ایک وسیع نفسیاتی اور ادراکی (کاگنیٹیو) جنگ کا آغاز کر چکا ہے۔‘

بیان میں عوام سے محتاط رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ ’دشمن کی انٹیلیجنس چالوں‘ کو ناکام بنائیں اور عوامی و آن لائن پلیٹ فارمز کو طالبان کے نفسیاتی جنگی مقاصد کے نفاذ کا ذریعہ بننے سے روکیں۔

دریں اثنا، افغان اخبار اطلاعات روز نے ایک تجزیاتی مضمون میں دعویٰ کیا کہ طالبان کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلیجنس (جی ڈی آئی) کی پروپیگنڈا مہم چار بنیادی ستونوں پر مشتمل ہے۔

مضمون کے مطابق ان ستونوں میں جی ڈی آئی کے زیر انتظام میڈیا ادارے اور طالبان انتظامیہ شامل ہیں اور اس میں جعلی اکاؤنٹس، بوٹس اور مواد کی تشہیر کرنے والے نیٹ ورکس کو بھی شامل کیا گیا ہے، تاکہ ’آزاد‘ آوازوں کو دبانے اور عوامی حوصلے اور امید کو کمزور کرنے کی کوشش کی جائے۔

اطلاعات روز کے مطابق طالبان اس ’جھوٹ کے سیلاب‘ کے ذریعے معلوماتی ماحول پر عوام کے اعتماد کو مجروح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US