مسلم لیگ ن کی رکنِ قومی اسمبلی شمائلہ رانا کا کہنا ہے کہ 5 لاکھ 20 ہزار روپے ماہانہ میں گزارا کرنا مشکل ہو چکا ہے، اراکینِ اسمبلی کی تنخواہ کم از کم 10 لاکھ روپے ہونی چاہیے۔ ہمیں نہ سرکاری گھر ملتا ہے نہ گاڑی اور نہ ہی ڈرائیور، جبکہ پارلیمانی ذمہ داریوں کے ساتھ اخراجات بھی بہت ہیں۔ میں آج کل ڈائیٹنگ پر ہوں تو کچھ پیسے بچ جاتے ہیں ورنہ نارمل خوراک کے ساتھ اتنی تنخواہ میں گزارا کرنا بھی انتہائی مشکل ہے۔
مسلم لیگ ن کی رکنِ قومی اسمبلی شمائلہ رانا نے اراکینِ پارلیمنٹ کی موجودہ تنخواہوں اور مراعات پر کھل کر بات کرتے ہوئے ایسا مؤقف پیش کیا ہے جس پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑ سکتی ہے۔
ان کے مطابق 5 لاکھ 20 ہزار روپے ماہانہ موجودہ اخراجات کے مقابلے میں ناکافی ہیں اور ارکانِ اسمبلی کی ماہانہ آمدن کم از کم 10 لاکھ روپے ہونی چاہیے۔
شمائلہ رانا کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کا رکن بننے کے باوجود انہیں سرکاری رہائش، گاڑی یا ڈرائیور جیسی سہولتیں دستیاب نہیں جبکہ سیاسی اور پارلیمانی مصروفیات کے باعث اخراجات بھی کم نہیں ہوتے۔
بات یہاں تک پہنچی تو انہوں نے اپنے انداز میں ایک دلچسپ مثال بھی دے دی ان کا کہنا تھا کہ وہ ان دنوں ڈائیٹنگ کر رہی ہیں اسی وجہ سے کچھ رقم بچ جاتی ہے اگر معمول کے مطابق کھانا پینا ہو تو موجودہ آمدن میں گزارا مزید مشکل ہو جائے گا۔
تاہم ان کی گفتگو صرف تنخواہ تک محدود نہیں رہی۔ شمائلہ رانا نے اپنی والدہ کی سیاسی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے نچلی سطح کی سیاست میں بھرپور کردار ادا کیا، جلسوں اور احتجاجوں میں حصہ لیا، مشکلات برداشت کیں اور جیل بھی گئیں۔
ملکی سیاست پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں کو انتہائی سنجیدگی سے آگے بڑھنا ہوگا۔ جمہوری اور انتظامی نظام کو مضبوط کرنا ضروری ہے، لیکن اس عمل میں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کہیں ملک کا پورا نظام ہی عدم استحکام کا شکار نہ ہو جائے۔
ایک طرف عوام مہنگائی سے پریشان، دوسری طرف ایک رکنِ اسمبلی 10 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ کو ضروری قرار دے رہی ہیں۔ شمائلہ رانا کے بیان نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ عوامی نمائندوں کی آمدن اور عام شہری کے معاشی حالات کے درمیان یہ خلیج کہاں تک قابلِ قبول ہے؟