انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں خاتون کی دریا میں کودنے کی ویڈیو: ’جب کوئی پریشان ہو تو اسے سُنیں، احساسات کے اظہار کا موقع دیں‘

20 سالہ خاتون پریم نگر کے قریب شیوا ڈل پُل کے پاس گاڑی سے اُتریں اور اُترتے ہی پُل کی ریلنگ سے لٹکتے ہوئے الوادع کہنے کے انداز میں اپنا ہلایا اور دریا میں کود گئیں۔
Kashmir
Getty Images
دریائے چناب میں ڈوڈہ کے مقام پر لڑکی کی تلاش کا کام جاری ہے (فائل فوٹو)

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں ایک خاتون کو دریا میں کودنے سے قبل الوداع کہنے کے انداز میں ہاتھ ہلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ان خاتون کا تعلق انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر کے جنوبی ضلع ڈوڈہ سے ہے۔ خاتون کے اہلخانہ اور مقامی سرکاری حکام نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ لڑکی کی تلاش کا کام جاری ہے۔

مقامی حکام کے مطابق ضلع ڈوڈہ میں اتوار کی دوپہر 20 سالہ لڑکی شہر سے اپنے گاؤں محالا جا رہی تھیں کہپریم نگر کے قریب شیوا ڈل پُل کے پاس وہ گاڑی سے اُتریں اور اُترتے ہی پُل کی ریلنگ سے لٹکتے ہوئے الوادع کہنے کے انداز میں اپنا ہلایا اور دریا میں کود گئیں۔

واقعے کے فوراً بعد ضلعی انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے اور تیز بہاؤ والے دریائے چناب میں لڑکی کی تلاش کا کام شروع کر دیا۔

خاتون کے والد کا کہنا ہے کہ اُن کی بیٹی نے ’دریا میں کودنے سے چند منٹ قبل انھیں فون کیا تھا۔‘

دوسری جانب واقعے کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جس میں خاتون کو پُل کی ریلنگ سے لٹکے ہوئے ہاتھ ہلا کر ’بائے بائے‘ کہتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ڈوڈہ میں وکیل اور سماجی رضاکار ایڈووکیٹ بابر حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مذکورہ خاتون ’گذشتہ کئی ماہ سے ذہنی دباؤ کا شکار تھیں اور اپنے گاؤں سے اکثر کونسلنگ کے لیے ڈوڈہ شہر آتی تھیں۔‘

دریا میں چھلانگ لگانے والی خاتون کے ایک رشتہ دار وِجے نے بھی تصدیق کی کہ ’وہ ذہنی تناؤ کا سامنا کر رہی تھیں۔‘

انھوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان افواہوں کی تردید کی کہ خاتون ویڈیو بناتے ہوئے حادثاتی طور پر دریا میں گری تھیں۔

خاتون کے دریائے چناب میں کودنے کے بعد سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی بحث

اس واقعے نے سوشل میڈیا صارفین کو بھی افسردہ اور پریشان کر دیا ہے۔

خاتون کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد کئی صارفین نے واقعے پر دُکھ کا اظہار کیا، جبکہ بعض نے ویڈیو بنانے اور اسے سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے رجحان پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔

سوشل میڈیا پر اپنے تبصروں میں صارفین نے خاتون کے اہلِخانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اُن کے لیے دعا بھی کی۔

بعض صارفین نے یہ بھی کہا کہ ’زندگی میں مشکلات کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، انسان کی زندگی سے بڑھ کر نہیں ہو سکتیں۔‘

گرودایال سنگھ نامی ایک ایکس صارف نے لکھا ’لوگ انتہائی لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ میں سمجھ ہی نہیں سکتا کہ ویڈیوز بنانے کے معاملے میں لوگ اتنی غفلت کیوں برت رہے ہیں۔‘

موہت کمار نامی ایک ایکس صارف نے واقعے کو ’انتہائی افسوسناک اور دلخراش‘ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ’اللہ اُن کے اہلِخانہ کو یہ ناقابلِ برداشت صدمہ سہنے کی طاقت دے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’دعا ہے کہ ریسکیو ٹیموں کی کوششیں کامیاب ہوں اور وہ جلد مل جائیں۔‘

تنصیف انصاری نے ایکس پر لکھا کہ ’زندگی میں مشکلات کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، انسان کی زندگی سے بڑھ کر نہیں ہو سکتیں۔‘

ایک اور سوشل میڈیا صارف نے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ’ایسا لگتا ہے کہ خاتون کسی پریشانی سے گزر رہی تھیں، اسی لیے انھوں نے (مبینہ طور پر) اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن ایسا کرنا بالکل درست نہیں ہے۔‘

شگفتہ خان نے خاتون کے اہلِخانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی ہے۔ دعا ہے کہ پولیس اور ریسکیو ٹیم کی تلاش کامیاب ہو۔‘

انو یادو نامی سوشل میڈیا صارف نے اس واقعے کو ’انتہائی دلخراش‘ قرار دیا۔

Kashmir
Getty Images

پریتی نامی اور ایکس صارف نے بھی اپنی پوسٹ میں اہم سوالات اُٹھائے اور لکھا کہ ’یہ دل خراش واقعہ ایک بار پھر یہ سوال اٹھاتا ہے کہ آج کی نوجوان نسل معمولی یا عارضی نظر آنے والے ذہنی دباؤ کے سامنے اتنا انتہائی قدم کیوں اٹھا لیتی ہے؟ کیا نوجوانوں کو اپنے مسائل بیان کرنے، اپنے جذبات کا اظہار کرنے اور مشکل وقت میں کسی کی توجہ اور ساتھ ملنے کے لیے مناسب ماحول میسر نہیں؟‘

ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ ’یہ دیکھنا انتہائی تکلیف دہ ہے کہ نوجوان، جنھیں ابھی زندگی کو سمجھنے کا بمشکل موقع ہی ملتا ہے، اس طرح کی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ لوگ ان کے ساتھ اتنی سختی سے پیش آتے ہیں کہ وہ دل توڑ دینے والے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور محسوس کرنے لگتے ہیں۔‘

انھوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھا کہ ’براہِ کرم، جب کوئی شخص جذباتی طور پر کمزور اور پریشان ہو تو اسے وقت دیں۔ اس کی بات سنیں۔ اسے اپنے احساسات کا اظہار کرنے کا موقع دیں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US