نئی دہلی میں عمارت زمین بوس، 7 افراد ہلاک

image

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں اتوار کی دوپہر ایک افسوسناک حادثے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا جہاں ستیہ نکیتن میں طلبہ کے لیے قائم گیسٹ عمارت اچانک زمین بوس ہوگئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے میں 7 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 40 سے 50 افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عمارت کے اچانک گرنے کے بعد جائے وقوعہ پر امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئیں۔ ریسکیو ٹیمیں بھاری ملبہ ہٹانے اور اندر موجود افراد کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ایمز منتقل کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس وقت تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کتنے لوگ عمارت کے اندر موجود تھے اور ان میں سے کتنے ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

حادثے کے وقت علاقے میں بارش بھی ہو رہی تھی جس کے باعث زیادہ تر طلبہ عمارت کے اندر موجود تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق عمارت گرنے سے کچھ دیر پہلے ایک زوردار آواز سنائی دی جس کے بعد عمارت میں موجود افراد نے مدد کے لیے چیخنا شروع کردیا۔ عمارت منہدم ہوتے ہی گرد و غبار کا بادل چھا گیا اور آس پاس موجود لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ ہٹانے کی کوشش کرنے لگے۔

جائے حادثہ پر موجود افراد نے بتایا کہ ملبے کے اندر سے لوگوں کے پکارنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ ایک عینی شاہد نے دعویٰ کیا کہ عمارت میں 25 سے 30 بچے بھی موجود ہوسکتے ہیں، تاہم حکام نے ابھی تک اندر پھنسے افراد کی حتمی تعداد کی تصدیق نہیں کی۔

دہلی یونیورسٹی کے طالب علم گارو واشسٹ بھی اپنے ایک دوست کی تلاش میں جائے وقوعہ پر پہنچے۔ ان کے مطابق عمارت میں تقریباً 50 سے 60 طلبہ موجود ہوسکتے تھے۔ انہوں نے کافی دیر تک اپنے دوست کو تلاش کیا، لیکن جب کوئی اطلاع نہ ملی تو وہ اسپتال پہنچے، جہاں انہیں معلوم ہوا کہ چند زخمیوں کو ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ان کا دوست بھی ان میں شامل ہے یا نہیں۔

حادثے کے بعد امدادی کارروائی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کانگریس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی کے صدر ونود جاکھر نے الزام لگایا کہ ان کے جائے وقوعہ پر پہنچنے کے وقت طلبہ کی مدد کے لیے فوری طور پر مناسب امدادی عملہ موجود نہیں تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ملبہ ہٹانے اور پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کی کوشش کی۔

دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ مختلف سرکاری اداروں کی ٹیمیں ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس، فائر سروسز، پولیس، میونسپل کارپوریشن، ٹراما سروسز اور سول ڈیفنس کے اہلکار امدادی کارروائی میں شامل ہیں۔

حادثے کے بعد علاقے کے رہائشیوں نے قریبی عمارتوں کی حالت پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آس پاس موجود کئی عمارتیں ایک دوسرے سے متصل ہیں، اس لیے کسی مزید حادثے کے خدشے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ فی الحال امدادی ٹیموں کی توجہ ملبے کے نیچے موجود افراد کو تلاش کرنے اور انہیں محفوظ طریقے سے باہر نکالنے پر مرکوز ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US