کراچی میں میر رضا علی کی پُراسرار موت کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کی کارروائی اُس وقت رک گئی جب سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے خاندان کے وکیل کے سوالات پر اعتراض کیا۔
کراچی میں میر رضا علی کی پُراسرار موت کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کی کارروائی اُس وقت رک گئی جب سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے خاندان کے وکیل کے سوالات پر اعتراض کیا۔
منگل کی سماعت کے دوران کمیشن نے اس اعتراض کو کارروائی میں مداخلت قرار دیتے ہوئے سندھ کے وزیرِ داخلہ ضیا الحسن لنجار کو طلب کر لیا ہے تاکہ وہ واضح کریں کہ آیا متاثرہ خاندان کو کمیشن کے سامنے سوالات کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا 28 جولائی کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سے لاپتہ ہوئے تھے اور دو روز بعد گلستانِ جوہر کے علاقے سے ان کی لاش ملی تھی۔ بعد میں پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار اور ابتدائی رپورٹ پر بھی سوالات اٹھے، جس کے بعد قبر کشائی کر کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ سندھ حکومت نے کیس کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔
کمیشن کے تحریری حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل جواد ڈھیرو نے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کا بیان ریکارڈ کیے جانے کے دوران کارروائی میں مداخلت کی اور خاندان کے وکیل کی جانب سے سوالات کیے جانے پر اعتراض کیا۔
تحقیقاتی کمیشن نے اس اعتراض کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کارروائی میں خلل اس وقت ڈالا گیا جب پولیس سرجن پوسٹ مارٹم کے دوران سینیئر پولیس افسران کے کردار کی وضاحت کر رہی تھیں۔
کمیشن نے سندھ کے وزیرِ داخلہ ضیا الحسن لنجار کو 10 ستمبر کو پیش ہونے اور یہ مؤقف واضح کرنے کے لیے طلب کیا ہے کہ آیا متاثرہ خاندان کو کمیشن کے سامنے سوالات کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔
کمیشن نے حکم نامے میں کہا ہے کہ کسی سوال کا کارروائی سے متعلق ہونا یا نہ ہونا طے کرنا کمیشن کا اختیار ہے، اس کے ٹی او آرز میں کیس کے ’حقائق اور حالات‘ سامنے لانا شامل ہے اور کمیشن اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
آرڈر کے مطابق کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ انھیں اس بات پر افسوس ہے کہ سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے متاثرہ خاندان کی جانب سے ان کے وکیل کے ذریعے وضاحت کے لیے کیے گئے سوالات پر اعتراض کیا۔
کمیشن نے کہا کہ وہ اسے خاندان کے سوالات کو شفاف انداز میں زیرِ بحث لانے سے روکنے کی ایک دانستہ کوشش سمجھتا ہے۔
آرڈر شیٹ میں پیپلز پارٹی کی رہنما اور رکنِ سندھ اسمبلی فریال تالپور کے مؤقف کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ کمیشن کے مطابق فریال تالپور نے وزیراعلیٰ سندھ کو سفارش کی تھی کہ میر رضا علی کے معاملے کی ’شفاف، غیر جانب دار اور جامع تحقیقات‘ کے لیے عدالتی کمیشن قائم کیا جائے۔
کمیشن نے بتایا کہ پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد کو گذشتہ روز پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ تاہم بیلف نے کمیشن کو بتایا کہ پروفیسر 30 ستمبر تک بیرونِ ملک رخصت پر ہیں، اس لیے وہ آج اپنا بیان ریکارڈ نہیں کرا سکے۔
گذشتہ سماعتوں کا احوال
اس سے قبل جوڈیشل کمیشن میں پولیس کی کارروائی اور تفتیش کے طریقۂ کار پر سخت سوالات اٹھائے گئے تھے۔
پیر کے روز سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کمیشن کے سامنے گلستانِ جوہر کے ایس ایچ او کامران قریشی نے اعتراف کیا تھا کہ شواہد کی تلاش کے لیے جائے وقوعہ پر موجود گھاس کو آگ لگائی گئی تھی۔
کمیشن نے اس اقدام پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ آیا کرائم سین کو آگ لگانا پولیس کے معمول کے طریقۂ کار کا حصہ ہے، جبکہ اس معاملے پر ایس ایس پی سی آئی اے کو بھی نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی گئی۔
سماعت کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ لاش ملنے کے مقام پر نہ تو کرائم سین محفوظ بنایا گیا اور نہ ہی میمو آف انسپیکشن تیار کیا گیا۔ ایس ایچ او نے تسلیم کیا کہ ضلع ایسٹ میں کرائم سین یونٹس موجود ہونے کے باوجود اس کیس میں کسی یونٹ کو طلب نہیں کیا گیا۔ کمیشن نے پولیس کے مؤقف پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ بظاہر پولیس تعاون کے بجائے اپنے کردار پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کمیشن نے تھانہ فیروز آباد اور گلستانِ جوہر کے روزنامچے بھی طلب کیے تھے۔

ایس ایچ او کامران قریشی نے بتایا کہ 29 جولائی کو رات 12 بج کر 36 منٹ پر انھیں میر رضا کی لاش ملنے کی اطلاع ملی۔ ان کے مطابق لاش خراب حالت میں تھی اور ابتدائی طور پر شناخت ممکن نہیں تھی۔ دورانِ سماعت قریبی گیسٹ ہاؤس کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا، کیونکہ میر رضا کے اہلِ خانہ پہلے ہی کمیشن کو بتا چکے ہیں کہ گمشدگی کے بعد وہ ایک ایسے گیسٹ ہاؤس تک پہنچے تھے جہاں موجود نوجوان مبینہ طور پر فرار ہونے لگے تھے۔ کمیشن نے اس گیسٹ ہاؤس اور وہاں ممکنہ غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق پولیس کے علم اور کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔
گذشتہ ہفتے میر رضا کے والدین نے کمیشن کو بتایا کہ گمشدگی کے بعد پولیس نے ابتدائی طور پر ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی اور انھیں سنجیدگی سے نہیں لیا۔ خاندان کے مطابق انھوں نے خود سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کیں جن میں میر رضا کو گھر سے نکلتے اور بعد میں ایک گاڑی میں جاتے دیکھا جا سکتا تھا۔ والدین نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گمشدگی کے دوران میر رضا کے بعض دوست اور کاروباری شراکت دار ان کے کمرے کی تلاشی لیتے رہے اور بعد میں معلوم ہوا کہ شراکت داری کا ایک معاہدہ غائب ہے۔ خاندان کا کہنا تھا کہ کچھ دوستوں کی توجہ میر رضا کی تلاش سے زیادہ مالی معاملات پر مرکوز دکھائی دی۔
کمیشن کے سامنے ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکاروں اور پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔ رضاکاروں نے کہا کہ لاش پر گولی لگنے کا نشان موجود تھا اور انھوں نے پولیس کو اس بارے میں آگاہ کیا تھا۔ ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں تھا، تاہم کمیشن نے ابتدائی اور حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹس میں فرق، اینستھیٹکس کی موجودگی اور رپورٹ کی تیاری کے طریقۂ کار پر کئی سوالات اٹھائے۔ ڈاکٹر اسامہ نے یہ بھی بتایا کہ انھیں ڈی آئی جی ایسٹ فرخ لنجار اور بعد میں ایڈیشنل آئی جی آزاد خان کی جانب سے وزیراعلیٰ ہاؤس بلایا گیا تھا، جہاں ان سے کیس کی ٹائم لائن طلب کی گئی تھی۔