بیکی جونز محض 21 برس کی تھیں جب انھیں بتایا گیا کہ اُنھیں دماغ کا ایسا کینسر لاحق ہے جس کا علاج ممکن نہیں اور اُن کی زندگی کے صرف چند ماہ باقی ہیں۔ اب 34 سالہ بیکی جونز کو حال ہی میں معلوم ہوا ہے کہ انھیں کبھی کینسر تھا ہی نہیں۔
سکین میں ٹیومر کے آثار نہ دکھنے کے باوجود بیکی کو بتایا گیا کہ ان کی زندگی کے محض کچھ ہی ماہ بچے ہیں۔بیکی جونز محض 21 برس کی تھیں جب انھیں بتایا گیا کہ اُنھیں دماغ کا ایسا کینسر لاحق ہے جس کا علاج ممکن نہیں اور اُن کی زندگی کے صرف چند ماہ باقی ہیں۔
اُن کی اپنے شریکِ حیات سے ملاقات کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا اور وہ پولیس میں کیریئر بنانے کا خواب دیکھ رہی تھیں، مگر اچانک مستقبل اُنھیں اپنا تاریک دکھائی دینے لگا۔
کینسر کے ایک تجربہ کار کنسلٹنٹ کی جانب سے کی جانے والی اس تشخیص کے نتیجے میں اُنھوں نے 11 برس تک کیموتھراپی کروائی جس نے اُن کی زندگی بدل کر رکھ دی۔ وہ اکثر متلی اور طبیعت کی خرابی کا شکار رہتیں، خاندانی تقریبات میں حصہ نہیں لے پاتیں، اُن کا پیشہ ورانہ سفر متاثر ہوا اور وہ ہر وقت غیر یقینی اور خوف کی کیفیت میں مبتلا رہتیں۔
اب 34 سالہ بیکی جونز کو حال ہی میں معلوم ہوا ہے کہ انھیں کبھی کینسر تھا ہی نہیں۔ دراصل اُنھیں دماغ کی سوزش لاحق تھی، جس کا علاج سٹیرائیڈ ادویات سے کیا جا سکتا تھا۔
دو بچوں کی ماں بیکی جونز اُن 40 سے زائد مریضوں میں شامل ہیں جنھوں نے یونیورسٹی ہاسپٹلز کووینٹری اینڈ واروکشائر این ایچ ایس ٹرسٹ (یو ایچ سی ڈبلیو) کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ انھیں طویل عرصے تک یا بلا ضرورت کینسر کا علاج دیا گیا۔
وہ بتاتی ہیں کہ ’مجھے بار بار کہا گیا گیا کہ اگر میں کیموتھراپی نہیں کرواؤں گی تو میری موت ہو جائے گی۔‘
جونز کا کہنا ہے کہ جب وہ نوجوان تھیں تو یونیورسٹی ہسپتال کووینٹری کے کنسلٹنٹ پروفیسر ایئن براؤن نے انھیں بتایا تھا کہ انھیں پوری زندگی کیموتھراپی کی دوا ٹیموزولومائڈ (ٹی ایم زی) استعمال کرنا ہو گی۔
یاد رہے کہ طبی رہنما اصولوں میں چھ ماہ کے دوران کیموتھراپی کے صرف چھ مراحل تجویز کیے جاتے ہیں اس کے باوجود طویل عرصے تک ان کی کیمو تھراپی جاری رہی۔
جونز کے مطابق جب انھیں متعدد سکینز میں بظاہر کسی رسولی کے شواہد نظر نہیں آئے اور انھوں نے اس متعلق سوال اٹھایا تو کنسلٹنٹ نے انھیں بتایا کہ یہ رسولی ایسے دکھائی نہیں دیتی۔
بالآخر جب 2025 جب ٹرسٹ میں پروفیسر براؤن سے متعلق کینسر کے کیسوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جا رہا تھا تب جا کر انھیں حقیقت کا علم ہوا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے کبھی دماغ کا ٹیومر تھا ہی نہیں۔ میری غلط تشخیص کی گئی اور میں نے اپنی بالغ زندگی کا بڑا حصہ بلاوجہ یہ تمام علاج کرواتے ہوئے گزار دیا۔‘
’مختصراً کہیں تو انھوں نے میری زندگی تباہ کر دی۔‘
بیکی جونز کا کہنا ہے کہ سالوں تک دوائیں لینے کے ان پر خوفناک اثرات پڑے ہیں۔پروفیسر براؤن کے کئی دیگر سابق مریضوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں کئی برس تک ٹیموزولومائڈ (ٹی ایم زی) دی جاتی رہی، جس کے نتیجے میں انھیں مختلف سنگین طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
ایک مریضہ کا کہنا تھا کہ اُنھیں یقین ہے کہ اس دوا کے باعث وہ ماں بننے کی صلاحیت سے محروم ہو گئی ہیں، جبکہ ایک اور مریض کو غیر ضروری طور پر کیموتھراپی کی 100 سائیکل دیے جانے کے بعد خون کا سرطان (لیوکیمیا) لاحق ہو گیا۔
رائل کالج آف فزیشنز (آر سی پی) کی جانب سے کیے گئے جائزے کے ابتدائی نتائج کے مطابق، ہسپتال میں مریضوں کو معمول کے طور پر اس دوا کے طویل دورانیے پر مشتمل کورس دیے جاتے رہے، حالانکہ اس کے فوائد کے بہت کم شواہد موجود تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ہسپتال کے عملے کی کوتاہیاں ’مریضوں کے اعتماد سے غداری‘ کے مترادف تھیں۔ جائزہ رپورٹ میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آنکولوجی فارمیسی کی ٹیموں نے اس بات پر اعتراض کیوں نہیں کیا کہ بعض مریض 10 سے 15 برس تک مسلسل کیموتھراپی کی دوائیں کھا رہے تھے۔
یونیورسٹی ہاسپٹلز کووینٹری اینڈ واروکشائر این ایچ ایس ٹرسٹ (یو ایچ سی ڈبلیو) کا کہنا ہے کہ وہ انفرادی مقدمات پر تبصرہ نہیں کر سکتے، تاہم یہ ضرور کہا کہ ٹیموزولومائڈ کی تجویز اور استعمال کی نگرانی کو مزید مؤثر اور سخت بنانے کے لیے اقدامات نافذ کیے گئے ہیں۔
سنہ 2012 میں بیکی جونز کی زندگی ابھی شروع ہی ہوئی تھی۔ وہ کووینٹری سٹی سٹیڈیم میں سی سی ٹی وی آپریٹر کے طور پر کام کرتی تھیں۔ اسی دوران اُن کی اپنے ساتھی پیٹ سے ملاقات ہوئی۔ تاہم کچھ ہی عرصے بعد انھیں شدید مائگرین کی شکایت رہنے لگی اور انھوں نے طبی مدد حاصل کی۔
ایک نجی نیورو سرجن نے ان کے دماغ کے بایوپسی ٹیسٹ کیے تھے۔
تاہم قانونی فرم بریبنرز کی پارٹنر فیونا ٹنسلی کا کہنا ہے کہ پروفیسر ایئن براؤن نے ٹیسٹ کے نتائج موصول ہونے سے پہلے ہی جونز میں گریڈ فور گلیوبلاسٹوما کی تشخیص کر دی تھی۔ یہ جو دماغ کے کینسر کی سب سے جارحانہ اقسام میں سے ایک ہے۔
بی بی سی نے متعدد بار ریٹائرڈ پروفیسر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
جونز اپنے کیموتھراپی کے برسوں کو ’انتہائی کٹھن‘ قرار دیتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے مسلسل متلی رہتی، پیٹ میں درد ہوتا، منہ میں چھالے پڑ جاتے اور ہر وقت تھکن محسوس ہوتی تھی۔ یہ بہت تکلیف دہ تھا۔‘
ان کے مطابق دوا کے اثرات نے اُن کی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا۔ انفیکشن کے خطرے کے باعث انھوں نے سماجی تقریبات اور خاندانی اجتماعات میں جانے سے وہ گریز کرنے لگیں۔
ابتدائی طور پر اُن کا ڈرائیونگ لائسنس بھی منسوخ کر دیا گیا اور بعد میں اس پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔
’علاج شروع ہونے سے پہلے میں باقاعدگی سے جم جاتی تھی، دوڑ لگاتی تھی اور میں اور پیٹ اکثر باہر کھانا کھانے جایا کرتے تھے، لیکن ظاہر ہے کہ پھر میں یہ سب نہیں کر سکتی تھی۔‘
بیکی جونز اور ان کے پارٹنر کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جونز حاملہ نہیں ہو سکیں گی۔
’بعد میں میرے ہاں دو بچے پیدا ہوئے۔ اُنھوں نے مجھے بتایا کہ میرے دونوں بچے ایک معجزہ ہیں۔‘
40 سے زائد افراد قانونی چارہ جوئی کر رہے ہیں۔ان کا علاج ایک دہائی سے زائد عرصے تک جاری رہا۔ بالآخر 2024 میں اچانک انھیں ایک ڈاکٹر کی کال موصول ہوئی جس نے انھیں بتایا کہ اُن کی کیموتھراپی روکی جا رہی ہے۔
جونز کہتی ہیں کہ کال کرنے والے نے اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔ ’انھوں نے صرف یہ کہا کہ ایئن براؤن ریٹائر ہو گئے ہیں، اور یہ پہلا موقع تھا جب مجھے اس بارے میں پتا چلا۔‘
اُنھیں بتایا گیا کہ اگر اُن کے کوئی سوالات ہیں تو اُن کے نئے آنکولوجسٹ جواب دیں گے، لیکن انھیں اس ڈاکٹر کا نام تک نہیں بتایا گیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کیا کروں، کہاں جاؤں اور کس سے بات کروں، کیونکہ اس دوران ہسپتال کی جانب سے مجھے کوئی مدد نہیں ملی تھی۔‘
مئی 2025 میں جونز کے وکلا کی جانب سے نیورو سرجنوں اور ریڈیالوجسٹوں سے کروائے گئے آزادانہ جائزے کے بعد انھیں بتایا گیا کہ انھیں کبھی دماغ کا کینسر تھا ہی نہیں۔
درحقیقت وہ ٹیومیفیکٹیو ڈیمائلینیشن نامی عارضے کا شکار تھیں، جو دماغ میں سوزش کی ایک قسم ہے۔ عموماً نیورولوجسٹ اس کے علاج کے لیے طاقتور سٹیرائیڈ ادویات تجویز کرتے ہیں۔
جونز کو اس بارے میں ایک ویڈیو کال کے ذریعے آگاہ کیا گیا، جس میں اُن کے وکلا اور طبی ماہرین بھی شریک تھے۔
جونز جیسے بہت سے متاثرہ مریضوں کی نمائندگی کرنے والی وکیل فیونا ٹنسلی کہتی ہیں کہ ’جب ہمیں حقیقت کا علم ہوا تو سب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔‘
جونز کا کہنا ہے کہ کیموتھراپی نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دیرائل کالج آف فزیشنز (ُر شے پے) کی جائزہ رپورٹ میں پروفیسر ایئن براؤن کا نام لینے کے بجائے انھیں ’ڈاکٹر وائی‘ کے نام سے پکارا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جائزے کے لیے منتخب کیے گئے 20 مقدمات میں سے 15 مجموعی طور پر ’غیر تسلی بخش‘ تھے۔ کنسلٹنٹ نے اس جائزے میں حصہ نہیں لیا تھا۔
جائزہ لینے والی ٹیم کے مطابق اس دوا کے استعمال سے وابستہ خطرات کو سمجھنے اور اُن کا ریکارڈ رکھنے کے حوالے سے ’بہت کم شواہد‘ موجود تھے۔
ابتدائی نتائج میں کہا گیا کہ بعض معاملات میں باریک بینی سے تشخیص اور مختلف شعبوں کے ماہرین کے ساتھ مؤثر تعاون کا فقدان تھا، جس کی وجہ سے تشخیص میں ممکنہ غلطیاں برقرار رہیں۔
جونز ان نتائج کو ’خوفناک‘ قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’معاملہ صرف یہ نہیں کہ انھوں نے کیا کیا، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیسے انھیں اتنے طویل عرصے تک بغیر مؤثر نگرانی کے کام کرنے کی اجازت دی گئی۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنی مرضی چلا رہے تھے اور وہاں کوئی انھیں دیکھنے والا نہیں تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔‘
’مریضوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے‘
یونیورسٹی ہاسپٹلز کووینٹری اینڈ واروکشائر کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام متاثرہ مریضوں کے کیسوں کا سینیئر ڈاکٹروں نے دوبارہ جائزہ لیا ہے اور ’ان کے لیے مناسب علاج اور نگہداشت کے منصوبے وضع کیے گئے ہیں۔‘
ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہم اپنے ’سپیک اپ‘ (آواز اٹھانے کے) طریقۂ کار کا بھی ایک آزادانہ جائزہ کروا رہے ہیں، جس کی قیادت ایک غیر جانب دار فریق کر رہا ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ عملہ کسی بھی تشویش یا مسئلے کی نشاندہی کرنے میں خود کو مکمل طور پر معاونت یافتہ اور پُراعتماد محسوس کرے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’جب رائل کالج آف فزیشنز کی مکمل رپورٹ شائع ہو جائے گی تو ٹرسٹ اس کا جائزہ لے گا اور اس کے نتائج کی بنیاد پر مزید مناسب اقدامات کرے گا۔‘
ترجمان کے مطابق ’ہم اپنی کمیونٹی کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ مریضوں کی حفاظت، علاج کا تجربہ اور فلاح و بہبود ہماری اولین ترجیحات ہیں۔‘