پاکستان استحکام سے سرمایہ کاری اور وسیع تر سرمایہ تشکیل کی جانب بڑھ رہا ہے، وزیر خزانہ

image

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میکرو اکنامک استحکام کے بعد سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت، برآمدات اور نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار ترقی کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

لندن میں جے پی مورگن کی ایمرجنگ اینڈ فرنٹیئر مارکیٹس مواقع کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں حکومت کی بنیادی ترجیح میکرو اکنامک استحکام کی بحالی اور پاکستان کی معاشی ساکھ کی تعمیر نو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مالیاتی اور بیرونی شعبوں کے استحکام، مہنگائی میں کمی، قرضوں کے بہتر انتظام اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک دوبارہ رسائی کے حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ مالی سال 2026 میں پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی جبکہ مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد تک کم ہوا، جو کئی برسوں کی کم ترین سطح ہے جبکہ ملک نے مسلسل تیسرے سال پرائمری سرپلس بھی ریکارڈ کیا۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کا مقصد معاشی استحکام کو ایسے ترقیاتی ماڈل کی بنیاد بنانا ہے جو قلیل مدتی کھپت کے بجائے سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت، برآمدات اور نجی شعبے کی سرگرمیوں سے تقویت حاصل کرے۔

وزیر خزانہ کے مطابق حکومت کی معاشی حکمت عملی میں میکرو اکنامک استحکام کو پائیدار بنانا، ساختی اصلاحات جاری رکھنا، امداد سے تجارت و سرمایہ کاری کی جانب منتقلی، مالی وسائل تک رسائی میں اضافہ اور ڈیجیٹل معیشت کے لیے پاکستان کو تیار کرنا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے فعال قرض مینجمنٹ کے ذریعے قرضوں کی مدت میں اضافہ اور ری فنانسنگ کے خطرات کم کیے ہیں جبکہ پاکستان نے مختلف مالیاتی ذرائع کے ذریعے عالمی کیپٹل مارکیٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ اور ریکارڈ 3 ارب ڈالر کی دو حصوں پر مشتمل یورو بانڈ ٹرانزیکشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں اجراء میں سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور طلب سامنے آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد صرف فنانسنگ حاصل کرنا نہیں بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں تک مستقل رسائی، سرمایہ کاروں کا دائرہ کار بڑھانا اور بہتر شرائط پر فنانسنگ حاصل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایکویٹی اور کارپوریٹ ڈیٹ مارکیٹس کو مضبوط بنانے، آئی پی اوز کی سرگرمیوں میں اضافے اور مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے اقدامات جاری ہیں، جبکہ اسلامی فنانس اور صکوک مارکیٹس کی ترقی سے طویل مدتی سرمایہ کاری کے ذرائع مزید وسیع کیے جا سکتے ہیں۔

محمد اورنگزیب نے نجکاری کے عمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے، ڈسکوز، مالیاتی اداروں، دیگر سرکاری اداروں اور ہوائی اڈوں کے آپریشنز سمیت مختلف شعبوں میں پیش رفت جاری ہے۔ حکومت نیشنل پرائیویٹ ایکویٹی فریم ورک بھی تشکیل دے رہی ہے تاکہ ادارہ جاتی سرمایہ کاروباری اداروں اور منصوبوں کی جانب راغب کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز، زراعت اور ہاؤسنگ کے شعبوں میں بھی مالی وسائل تک رسائی بڑھائی جا رہی ہے کیونکہ پاکستان کی ترقی کے اگلے مرحلے کی مالی ضروریات صرف سرکاری وسائل سے پوری نہیں کی جا سکتیں اور نجی سرمائے کو زیادہ بڑا کردار ادا کرنا ہوگا۔

کانفرنس میں پاکستان کے حوالے سے عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے بھی دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔ مجموعی طور پر 55 عالمی سرمایہ کاری فنڈز نے پاکستانی وفد کے ساتھ ون آن ون ملاقاتوں اور سرمایہ کار سیشن میں شرکت کی، جہاں پاکستان کی معاشی سمت، سرمایہ کاری کے مواقع اور اصلاحاتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پاکستان کے بیرونی شعبے میں بہتری، زرمبادلہ کے ذخائر، ترسیلات زر، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اور مالیاتی شعبے میں اصلاحات سے متعلق پیش رفت پر روشنی ڈالی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی بڑی داخلی مارکیٹ، نوجوان افرادی قوت اور تزویراتی جغرافیائی محل وقوع سرمایہ کاری کے اہم مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ٹیکس انتظامیہ، توانائی، ٹیرف، سرکاری اداروں اور مالیاتی شعبے میں اصلاحات کا مقصد معیشت کو برآمدات، ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، معدنیات، زراعت اور ویلیو ایڈڈ خدمات کی جانب منتقل کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان امداد پر انحصار سے آگے بڑھ کر تجارت اور سرمایہ کاری کے مضبوط روابط کی جانب بڑھ رہا ہے، جبکہ بلاک چین اور ویب 3.0 سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی اقدامات ضروری ہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی سرمایہ کاری کی کہانی اب صرف فوری معاشی دباؤ سے نمٹنے تک محدود نہیں، بلکہ اصلاحات اور معاشی ری ریٹنگ کے وسیع امکانات بھی موجود ہیں۔ حکومت مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی شعبے کے استحکام اور اصلاحاتی عمل کو برقرار رکھتے ہوئے ملکی و غیر ملکی نجی سرمایہ کاری کے لیے مزید گنجائش پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US