سہیل احمد بچپن میں ’سلیکٹو میوٹزم‘ کا شکار تھے، جس کے باعث وہ کچھ حالات میں بولنے سے قاصر رہتے تھے اور انھیں شرمیلا، ضدی یا بدتمیز سمجھا جاتا رہا۔ 20 سال سے زیادہ عرصے بعد انھیں اپنی کیفیت کی وجہ معلوم ہوئی، جبکہ بیٹی میں بھی ایسی علامات ظاہر ہونے پر انھوں نے اس کے لیے بروقت مدد حاصل کی۔
پانچ سالہ سہیل احمد دیکھ سکتے تھے کہ ان کے آس پاس موجود لوگ بیتابی سے ان کے بولنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ وہ ان کی ہدایات اپنے ذہن میں سن سکتے تھے، لیکن الفاظ تھے کہ ان کے منھ سے نکلنے کو تیار نہیں تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’جب میں ماضی کو یاد کرتا ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے میں مفلوج تھا۔ آپ حقیقت میں وہاں موجود ہوتے ہیں، لیکن ایک ہی وقت میں وہاں موجود نہیں ہوتے۔ آپ کمرے میں ہوتے ہیں، لیکن یوں لگتا ہے جیسے آپ کمرے میں ہیں ہی نہیں۔‘
’سب لوگ آپ کے کچھ کہنے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ خود کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے باہر سے خود کو دیکھ رہے ہوں اور خود سے کہتے ہیں ’چلو، کچھ بولو‘، لیکن آپ بول نہیں پاتے، آپ سے بولا ہی نہیں جاتا۔‘
اب چار دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد بریڈفورڈ کے جنرل پریکٹیشنر اور کمیونٹی ایکٹوسٹ سہیل کے اس طویل سفر کا اختتام کامیابی پر ہوا ہے۔ وہ جلد بریڈفورڈ آرٹس سینٹر میں ہونے والی ٹی ای ڈی ایکس تقریب کے کلیدی مقررین میں شامل ہوں گے۔
سہیل ’ایک ایسا لڑکا جس کے پاس آواز نہیں تھی‘ کے عنوان سے خطاب کریں گے۔ یہ پہلا موقع ہوگا جب وہ لوگوں کے سامنے اپنے پانچ سالہ ماضی کے وجود کا سامنا کریں گے۔
سہیل اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’کبھی بڑے انھیں شرمیلا کہتے، تو کبھی اناڑی یا ضدی سمجھتے تھے۔‘
کبھی کبھار انھیں مغرور یا بدتمیز بھی کہا جاتا۔ وقت گزرتا گیا اور انھیں دوسروں کی جانب سے تنگ کیے جانے، تمسخر اور مذاق کا سامنا کرنا پڑا۔
کسی نے یہ سوچنے کی کوشش نہیں کی کہ سہیل نے خاموش رہنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا، بلکہ وہ حقیقت میں بول نہیں سکتے تھے۔
اپنی اس کیفیت کی وجہ جاننے میں سہیل کو 20 سال سے زیادہ کا عرصہ لگا۔
میڈیکل کی تعلیم کے دوران جب سہیل ہل یارک میڈیکل کالج میں بچوں کی نفسیات کا مطالعہ کر رہے تھے، تو ایک روز انھوں نے درسی کتاب میں ایک عبارت پڑھی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اس میں لکھی ہوئی باتیں بالکل ویسی ہی تھیں جیسے میں بچپن میں تھا۔‘
’وہ شاید صرف چھ یا سات سطروں کا ایک مختصر سا پیراگراف تھا، لیکن جیسے ہی میں نے اسے پڑھا، مجھے معلوم ہو گیا کہ یہ میرے بارے میں ہے۔‘
اس عبارت میں ایک کیفیت کا ذکر تھا جسے ’سلیکٹو میوٹزم‘ کہا جاتا ہے۔ یہ بے چینی سے متعلق ایک ایسی کیفیت ہے جس میں کوئی شخص بعض حالات میں بول سکتا ہے، لیکن دوسری صورتِ حال میں اس کے لیے بولنا ممکن نہیں رہتا۔ اس کے نتیجے میں بعض اوقات انسان پر جیسے سکتہ طاری ہو جاتا ہے، شدید بے چینی پیدا ہوتی ہے یا گھبراہٹ کے دورے پڑ سکتے ہیں۔
اس دریافت یا یہ سب سامنے آنے سے سہیل کو ایک طرح کا اطمینان تو ملا، لیکن اس کے ساتھ کچھ تکلیف دہ سوالات بھی سامنے آئے۔ بچپن میں انھیں کسی قسم کی مدد نہیں ملی تھی اور بعد کی زندگی میں بھی وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ ان کے لیے کوئی مدد دستیاب ہو سکتی ہے۔
سہیل کہتے ہیں کہ انھوں نے اس بات کو نظرانداز کر دیا، لیکن یہ خیال ان کے ذہن سے کبھی پوری طرح نہیں نکلا، یہاں تک کہ تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے باوجود بھی۔
طبی شعبے سے وابستہ ہونے کے بعد ان کے پاس اپنی آواز استعمال کرنے کے سوا زیادہ راستہ نہیں تھا۔
’میں روزانہ تقریباً 20 مریضوں کو دیکھتا ہوں، تو آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اگر میں نے بات نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہوتا تو یہ میرے لیے کتنا مشکل ہوتا۔‘
اس کے باوجود وہ ایسی صورتِ حال سے اب بھی گریز کرتے تھے, جہاں انھیں اجنبی لوگوں کے سامنے بات کرنا پڑ سکتی تھی۔ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کو بس اسی طرح ’جاری‘ رکھنے پر مطمئن تھے۔
پھر دو ایسے واقعات پیش آئے جنھوں نے اپنی آواز کے ساتھ سہیل کے تعلق کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
پہلا واقعہ اس وقت پیش آیا جب ان کی پانچ سالہ بیٹی میں بھی ایسی علامات نظر آنے لگیں، جن سے محسوس ہوتا تھا کہ شاید وہ بھی اسی کیفیت کا سامنا کر رہی ہیں۔
سہیل کو یاد ہے کہ ان کی بیٹی کی ایک ٹیچر نے ان سے پوچھا کہ وہ بول کیوں نہیں رہی اور کہا کہ ضرور اس کے ساتھ کچھ مسئلہ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کہوں۔‘
’اس بات نے میرے اندر جذبات کا ایک طوفان برپا کر دیا اور چند لمحوں کے لیے میں دوبارہ پانچ سال کا بچہ بن گیا۔ اپنی بیٹی کے پاس کھڑا رہا، اس کا ہاتھ تھامے ہوئے۔‘
سہیل نے اپنی بیٹی امینہ کے لیے سپیچ اور لینگویج تھراپی کا انتظام کیا۔ اب وہ اچھی طرح نشوونما پا رہی ہیں اور ان مشکلات کا سامنا نہیں کر رہیں، جن سے سہیل کو اپنی اسی عمر میں گزرنا پڑا تھا۔
دوسرا واقعہ جس نے سہیل کی زندگی کا رخ بدل دیا، وہ کورونا وائرس کی عالمی وبا تھی۔
بریڈفورڈ میں رہنے والی برادریاں غلط معلومات کے پھیلاؤ سے بری طرح متاثر ہو رہی تھیں اور لوگ قابلِ اعتماد طبی معلومات کے ذرائع تلاش کر رہے تھے۔
سہیل تسلیم کرتے ہیں کہ بحیثیت جنرل پریکٹیشنر لوگوں کی جانب سے ملنے والی توجہ نے انھیں بے آرام کر دیا تھا، لیکن یہ بحران انھیں اپنی ذاتی جھجھک سے کہیں بڑا محسوس ہوا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’کسی نہ کسی کو آگے بڑھ کر کچھ کہنا اور لوگوں کو یقین دلانا تھا۔‘
’اگر یہ ذمہ داری مجھے نبھانی ہے، اپنی برادری اور ملک کی خاطر، تو مجھے یہ کرنا ہوگا اور اپنے راستے میں آنے والی ہر مشکل پر قابو پانا ہوگا۔‘
لوگوں سے کھل کر بات کرنے اور اپنے خوف پر قابو پانے کے بعد سہیل نے محسوس کیا کہ ان کے آس پاس ایسے اور بھی لوگ موجود ہیں، جن کے پاس دوسروں کے لیے کچھ قیمتی کہنے کو ہے، لیکن ان میں اعتماد کی کمی ہے یا شاید وہ بھی اسی طرح کے خوف کا سامنا کر رہے ہیں۔
’بریڈفورڈ فار بیٹر‘ مہم کے ساتھ کام کرتے ہوئے سہیل نے عوامی سطح پر گفتگو کرنے کا ایک کورس تیار کیا۔
انھوں نے عوامی سطح پر تقریر اور گفتگو کی تنظیم ’ٹوسٹ ماسٹرز انٹرنیشنل‘ کی بریڈفورڈ شاخ بھی قائم کی۔
اب ان کی نگرانی میں تربیت حاصل کرنے والے افراد سٹیج پر کھڑے ہو کر یا آن لائن بڑی تعداد میں لوگوں سے خطاب کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اب مجھے اپنے آس پاس کے لوگوں کو آگے بڑھتے اور اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتے دیکھنا بہت اچھا لگتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی سنڈی اپنے خول میں پھنسی ہوئی باہر نکلنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہو۔ لیکن جیسے ہی وہ باہر آتی ہے، آپ کو اس کے پر اور ان کے رنگ نظر آتے ہیں اور وہ اڑنے لگتی ہے۔ یہ منظر بہت خوبصورت ہوتا ہے۔‘
برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے مطابق ہر 140 میں سے ایک بچے کو ’سلیکٹو میوٹزم‘ کا سامنا ہوتا ہے، تاہم رائل کالج آف سپیچ اینڈ لینگویج تھراپسٹس کی مشیر اور سپیچ لینگویج پیتھالوجسٹ انیتا میک کیئرنن کا کہنا ہے کہ اصل صورتِ حال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
پری سکول کے بچوں پر کی جانے والی تحقیق سے بھی اشارہ ملتا ہے کہ یہ تعداد خاصی زیادہ ہو سکتی ہے۔ بعض مطالعات کے مطابق کثیر لسانی برادریوں سے تعلق رکھنے والے بچوں اور تارکینِ وطن کے بچوں میں یہ کیفیت عام بچوں کے مقابلے میں چار گنا تک زیادہ پائی جا سکتی ہے۔
میک کیئرنن سلیکٹو میوٹزم کو بعض مخصوص حالات میں بولنے کی توقع کیے جانے کے مسلسل خوف کے طور پر بیان کرتی ہیں، حالانکہ انسان دوسری صورتِ حال میں باآسانی بات کر سکتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ کوئی انتخاب یا فیصلہ نہیں ہوتا۔‘
’جب خوف کا ردِعمل شروع ہوتا ہے تو جسمانی اور نفسیاتی اثرات کا ایک پورا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جس کے باعث اس وقت بولنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘
اگرچہ سہیل کے بچپن کے مقابلے میں اب اس کیفیت کو سمجھنے میں نمایاں بہتری آئی ہے، لیکن ماہر انیتا میک کیئرنن کے مطابق سلیکٹو میوٹزم اب بھی بچوں کو متاثر کرنے والی ’سب سے عام اور سب سے زیادہ غلط سمجھی جانے والی کیفیات میں سے ایک‘ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ کیفیت سماجی بے چینی، بولنے اور زبان سے متعلق مشکلات اور آٹزم کے ساتھ بھی پائی جا سکتی ہے، اس لیے درست تشخیص انتہائی اہم ہے۔‘
ان کے مطابق یہ معلوم نہیں کہ کتنے بالغ افراد نے اپنی زندگی میں اس کیفیت کا سامنا کیا لیکن کبھی طبی مدد لینے کے مرحلے تک نہیں پہنچے اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ اس کے طویل مدتی اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔
ماہر انیتا میک کیئرنن مزید کہتی ہیں کہ ’ہمارے پاس صرف طبی اعداد و شمار موجود ہیں، یعنی ہم صرف ان لوگوں کو دیکھ سکتے ہیں جو طبی خدمات تک پہنچے۔‘
’کوئی نہیں جانتا کہ کتنے لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ شاید ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہو۔ شائع شدہ مطالعات میں بہت سے خلا موجود ہیں۔‘
دوسری جانب سہیل اب اس کیفیت کو جس نے کبھی ان کی زندگی محدود کر دی تھی، ایک نعمت کے طور پر دیکھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اگر میں اس تجربے سے نہ گزرا ہوتا تو میرے اندر آج وہ ہمدردی نہ ہوتی اور شاید میں دوسروں میں وہ کچھ دیکھنے کے قابل بھی نہ ہوتا جو اب دیکھ سکتا ہوں۔‘
’آپ کی آواز صرف وہ آواز یا لہجہ نہیں جو آپ پیدا کرتے ہیں، یہ اس مقصد کا نام ہے جس کے لیے اور جس کے ساتھ آپ زندگی گزارتے ہیں۔‘