مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی شدید کشیدگی اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی دارالحکومت ریاض کی سمت بیلسٹک میزائل داغے جانے کی اطلاعات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں اپنا قیام مختصر کر کے طے شدہ شیڈول سے ایک روز قبل وائٹ ہاؤس واپسی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ریاض کے بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب آگ لگنے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
خطے میں موجودہ فوجی تنازع کے تیزی سے شدت اختیار کرنے کے خدشات کے پیش نظر امریکی محکمہ خارجہ اور عراق سمیت خطے کے متعدد امریکی سفارتخانوں نے اپنے شہریوں کے لیے سیکیورٹی الرٹس جاری کر دیے ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے اپنے شہریوں کو مشرق وسطیٰ کا سفر کرنے یا وہاں سے گزرنے کے فیصلے میں انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔ ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ پروازوں کی منسوخی اور فضائی حدود کی بندش کے خدشات موجود ہیں، اس لیے شہری بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال سے باخبر رہیں اور اپنے سفری منصوبوں پر ازسرنو نظرثانی کے لیے تیار رہیں۔