جڑواں شہروں میں 4 لانگ مارچ کے اعلانات، سیکیورٹی سخت، تعلیمی ادارے، مارکیٹس، ٹرانسپورٹ بند رکھنے کا فیصلہ

image

آئندہ ایک ہفتے کے دوران راولپنڈی اور اسلام آباد میں چار مختلف لانگ مارچز کے اعلانات کے بعد انتظامیہ اور پولیس نے سیکیورٹی انتظامات سخت کردیے، جبکہ راولپنڈی میں تعلیمی اداروں، ہوٹلوں، مارکیٹس اور ٹرانسپورٹ ٹرمینلز کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق 20 سے 27 ستمبر کے دوران متوقع لانگ مارچز کے پیش نظر جڑواں شہروں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ راولپنڈی میں سیف سٹی منصوبے کے تحت نصب تقریباً 1500 کیمروں کو مظاہرین کی نگرانی کے لیے فعال کردیا گیا ہے۔

راولپنڈی میں تمام اسکولز، کالجز اور جامعات سمیت ہوٹل، موٹل، ریسٹ ہاؤسز اور سرائے آئندہ ہفتے بند رہیں گے۔ ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کے ٹرمینلز بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ میٹرو بس اور گرین الیکٹرک بس سروس بھی معطل رہے گی۔

شہر کی تمام مارکیٹس اور ہول سیل مارکیٹس بھی بند رکھنے کی اطلاعات ہیں۔ جڑواں شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر بڑے اسپائکس والے کنٹینرز نصب کیے جا رہے ہیں، جن میں مبینہ طور پر 8 انچ کے اسپائکس لگے ہوئے ہیں۔ فیض آباد، چونگی نمبر 26، روات، چکری، اڈیالہ روڈ، پیرودھائی، بھارہ کہو اور 17 میل سمیت مختلف راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، جبکہ ڈرونز کے ذریعے بھی نگرانی کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق جڑواں شہروں کے تمام بڑے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔ رینجرز اور پنجاب کانسٹیبلری کے مزید دستے بھی طلب کیے گئے ہیں، جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد پولیس کو ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کے شیل فراہم کیے گئے ہیں۔

اٹک پولیس کو بھی رینجرز کی اضافی نفری، بکتر بند گاڑیاں، قیدیوں کی وینز، بھاری ہتھیار اور اضافی اہلکار فراہم کیے گئے ہیں، جو بدھ اور جمعرات کو ڈیوٹی سنبھالیں گے۔ حکام کے مطابق خیبرپختونخوا سے آنے والے مرکزی لانگ مارچ کو روکنے کے لیے بھی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

ایدھی مراکز کو بھی الرٹ کردیا گیا ہے، جبکہ آئندہ ہفتے اڈیالہ جیل میں قید ملزمان کو راولپنڈی اور اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جیل کے عملے کو بھی شہر میں سیکیورٹی ڈیوٹی سونپ دی گئی ہے۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کا لانگ مارچ 20 ستمبر کو کراچی سے شروع ہوگا، جبکہ راولپنڈی ڈویژن کے تمام چھ اضلاع سے قافلے اتوار سے لیاقت باغ پہنچنا شروع ہوں گے۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن بھی اتوار کو ٹرین کے ذریعے کراچی سے راولپنڈی روانہ ہوں گے اور ان کا ٹرین مارچ 22 ستمبر کو راولپنڈی پہنچے گا۔ حافظ نعیم الرحمٰن کی آمد تک راولپنڈی میں روزانہ احتجاجی دھرنے جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

سڑکوں کی بندش اور مختلف مقامات پر اسپائکس والے کنٹینرز کی تنصیب کے باعث 21 سے 27 ستمبر تک راولپنڈی میں کاروباری، تجارتی اور سماجی سرگرمیاں متاثر ہونے کا امکان ہے۔

اس صورتحال پر انجمن تاجران سبزی منڈی صدر کے صدر غلام قادر میر اور آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے صدر عرفان مظفر کیانی نے بار بار ہڑتالوں، لانگ مارچز، سڑکوں کی بندش، کنٹینرز کی تنصیب اور تعلیمی اداروں کی بندش پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تاجر اور تعلیمی نمائندوں نے تمام سیاسی جماعتوں، بالخصوص پاکستان تحریک انصاف، کے ساتھ سیاسی مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی بے یقینی کم کرنے اور ملکی معیشت کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے، جبکہ طاقت کا استعمال اور لانگ مارچ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US