چین نے 16 برس میں پہلی بار اپنے قومی دفاعی موبلائزیشن قانون میں ترمیم کی ہے لیکن بعض حلقوں نے اسے ’ایک کھلے تنازع‘ کی تیاری کی جانب ایک قدم کیوں قرار دیا ہے؟

چین نے 16 برس میں پہلی بار اپنے قومی دفاعی موبلائزیشن قانون میں ترمیم کی ہے، جسے تائیوان میں بعض حلقوں نے ’ایک کھلے تنازع‘ کی تیاری کی جانب ایک قدم قرار دیا ہے۔
یہ نیا قانون یکم اکتوبر سے نافذ العمل ہوگا۔ اسے 28 اگست کو چین کی نیشنل پیپلز کانگریس (این پی سی) کی قائمہ کمیٹی نے منظور کیا تھا، جبکہ اصل قانون پہلی مرتبہ یکم جولائی 2010 کو نافذ کیا گیا تھا۔
نئے قانون میں مجموعی طور پر پرانے قانون کی سابقہ ساخت کو برقرار رکھا گیا اور قومی دفاعی موبلائزیشن کے اہم پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس میں اس بات کا تعین بھی شامل ہے کہ دفاعی اداروں کو کب متحرک کیا جائے، اس دوران مختلف سرکاری اداروں کی ذمہ داریاں کیا ہوں گی اور ریزرو اہلکاروں کو طلب کرنے کا طریقۂ کار کیا ہوگا۔
تاہم اس قانون میں چند اہم تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔
یہ مضمون میں ان تبدیلیوں اور ان پر چینی اور تائیوانی ذرائع ابلاغ کے ردِعمل کا جائزہ لیا گیا ہے۔
قانون میں تبدیلیاں
اس قانون میں دلچسپ تبدیلیوں میں سے ایک ’ترقیاتی مفادات‘ کے تحفظ کو دفاعی موبلائزیشن بڑھانے کے جواز کے طور پر فہرست میں شامل کیا جانا شامل ہے۔
سنہ 2010 کے قانون میں کہا گیا تھا کہ چین اس وقت موبلائزیشن کا اعلان کر سکتا ہے جب ’اس کی خودمختاری، قومی اتحاد، علاقائی سالمیت یا سلامتی کو خطرہ لاحق ہو۔‘
تاہم نئے قانون میں ان وجوہات کے ساتھ ’ترقیاتی مفادات‘ کے تحفظ کو بھی شامل کر دیا گیا ہے۔
قانون میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ’ترقیاتی مفادات‘ سے کیا مراد ہے، جس کے نتیجے میں بیجنگ کو یہ طے کرنے کے لیے نسبتاً زیادہ اختیار حاصل ہو سکتا ہے کہ کن حالات میں قومی موبلائزیشن کا اعلان کیا جائے۔
یہ تبدیلی ممکنہ طور پر چین کو بیرونِ ملک فوجی کارروائیوں کے لیے بھی موبلائزیشن کا جواز فراہم کر سکتی ہے تاکہ وہ اپنے بڑھتے ہوئے بیرونی تجارتی اور اقتصادی مفادات کا دفاع کر سکے، اگرچہ قانون میں اس بارے میں کوئی واضح ذکر موجود نہیں ہے۔
نئے قانون میں آرٹیکل ٹو کے تحت ’قومی دفاعی موبلائزیشن‘ کی ایک نئی تعریف بھی شامل کی گئی ہے۔ اس کے مطابق اس سے مراد وہ ضروری اقدامات ہیں جو ریاست ’امن کے دور سے جنگی حالت میں تیز رفتار منتقلی کو یقینی بنانے اور اقتصادی و سماجی قوت کو قومی دفاعی قوت میں تبدیل کرنے‘ کے لیے اختیار کرتی ہے۔
امن کے دور کی قومی صلاحیتوں کو جنگی صلاحیتوں میں تبدیل کرنے کا یہ نیا تصور قانون کی مختلف شقوں میں نمایاں ہے۔
مثال کے طور پر ایک نئی شرط عائد کی گئی ہے کہ وہ شہری منصوبے اور مصنوعات جو ’قومی دفاع سے قریبی تعلق‘ رکھتے ہوں، انھیں فوجی معیارات اور تکنیکی خصوصیات کے مطابق ہونا ہوگا، خصوصاً ان معاملات میں جہاں شہری معیار فوجی تقاضوں پر پورا نہیں اترتے۔
اس تبدیلی کو بعض مبصرین چین کے سول۔ملٹری انضمام کی حکمتِ عملی کے تسلسل کے طور پر دیکھتے ہیں، جس کے تحت شہری صنعت، بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی اور پیداواری صلاحیتوں کو ضرورت پڑنے پر قومی دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
قانون کے آرٹیکل تھری میں ’فوج کو مضبوط بنانے سے متعلق شی جن پنگ کی فکر‘ کو بھی شامل کیا گیا ہےریلوے، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں جیسے بنیادی ڈھانچے، نیز کارگو بحری جہازوں اور شہری طیاروں جیسے ذرائع نقل و حمل، اس میں شامل ہوں گے۔
نئی شرط کے تحت موبلائزیشن کی صورت میں فوج ان وسائل اور صلاحیتوں کو زیادہ آسانی اور تیزی سے استعمال کر سکے گی۔
ایک اور ترمیم میں کمپنیوں، سرکاری اداروں اور سماجی تنظیموں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ وہ سٹریٹجک مواد کے ذخائر کو ’معقول حد تک بڑھائیں‘ اور قومی دفاعی موبلائزیشن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ٹیکنالوجی اور پیداواری صلاحیت کے ذخائر کو بھی مضبوط بنائیں۔
قانون میں ایک نئی شق بھی شامل کی گئی ہے، جس کے تحت سٹیٹ کونسل اور سینٹرل ملٹری کمیشن، جو چین کا اعلیٰ ترین فوجی ادارہ ہے، فوجی مصنوعات کی سپلائی چین کا سکیورٹی جائزہ لیں گے اور ان کی سلامتی اور لچک بڑھانے کے لیے اقدامات کریں گے۔
مبصرین کے مطابق یہ اقدام چین کی اس وسیع تر حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد اہم مصنوعات اور جدید ٹیکنالوجی میں خود کفالت حاصل کرنا ہے، تاکہ غیر ملکی پابندیوں، برآمدی پابندیوں اور سپلائی چین کے ممکنہ دباؤ کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔
نئے قانون میں اس شق کو بھی حذف کر دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ سٹیٹ کونسل اور سینٹرل ملٹری کمیشن ملک بھر میں قومی دفاعی موبلائزیشن کے کام کی ’مشترکہ قیادت‘ کریں گے۔
اس کے بجائے نئے قانون میں قومی دفاعی موبلآئزیشن کے امور میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کی مرکزی اور متحدہ قیادت کو نمایاں طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔
اسی طرح قانون کے آرٹیکل تھری میں ’فوج کو مضبوط بنانے سے متعلق شی جن پنگ کی فکر‘ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
قیادت سے متعلق الفاظ میں یہ تبدیلیاں اس بات کی عکاس سمجھی جا رہی ہیں کہ صدر شی جن پنگ فوج پر مزید مضبوط اور براہِ راست کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، خصوصاً اس لیے کہ 2010 کا قانون ان کے اقتدار میں آنے سے پہلے نافذ کیا گیا تھا۔
جہاں تک فوج میں بھرتی کا تعلق ہے، نئے قانون نے بھی سابق قانون کی نسبتاً مبہم زبان کو برقرار رکھا ہے۔ آرٹیکل 33 کے مطابق قومی دفاعی موبلائزیشن کی ضروریات کی بنیاد پر سٹیٹ کونسل اور سینٹرل ملٹری کمیشن یہ طے کریں گے کہ ریزرو اہلکاروں کی بھرتی کا حجم، نوعیت اور طریقۂ کار کیا ہوگا۔
قانون میں ان تفصیلات کو واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا، جس کے باعث حکومت کو ضرورت پڑنے پر موبلآئزیشن اور ریزرو فورسز کی طلبی کے حوالے سے وسیع صوابدیدی اختیارات حاصل رہتے ہیں۔
اگرچہ 2010 اور 2026 دونوں کے قوانین میں مرد شہریوں کے لیے فوجی خدمت کی عمر 18 سے 60 سال اور خواتین کے لیے 18 سے 55 سال ہی برقرار رکھی گئی ہے، تاہم نئے قانون میں یہ واضح طور پر شامل کیا گیا ہے کہ ان شہریوں پر قومی دفاعی فرائض کی انجام دہی ’قانونی طور پر لازم‘ ہوگی۔
فوج میں بھرتی کی عمر سے متعلق اس معاملے نے آن لائن خاصی بحث اور تشویش کو جنم دیا۔ اسی وجہ سے خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک فیکٹ چیک رپورٹ جاری کی، جس میں وضاحت کی گئی کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان افواہوں کے برعکس فوجی خدمت کی عمر کی حد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
چینی میڈیا کا کیا کہنا ہے؟
چینی میڈیا نے ان تبدیلیوں کو عموماً ملک کی جدیدکاری کے عمل کے تحت معمول کی قانونی و انتظامی اصلاحات قرار دیا اور ان قیاس آرائیوں کو کم اہمیت دی کہ چین کسی مخصوص جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا نے کہا کہ یہ ’اہم‘ ترامیم قومی دفاعی موبلائزیش کو درپیش ’نئی صورتحال‘ اور بدلتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی ہیں۔
دوسری جانب سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے ایک اداریے میں اس قانون پر ہونے والی غیر ملکی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسے ’جنگ کے اشارے‘ کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔
اخبار کے مطابق یہ قانون سازی مسلسل اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ چین کا دفاعی نظام دفاعی نوعیت، معمول کے انتظامی عمل اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں پر مبنی ہے۔
اداریے میں زور دیا گیا کہ قانون کا مقصد تیاری اور استعداد میں اضافہ ہے، نہ کہ لازماً فوجی موبلائزیشن یا کسی جنگی کارروائی کی منصوبہ بندی۔
سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے ایک اداریے میں اس قانون پر ہونے والی غیر ملکی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسے ’جنگ کے اشارے‘ کے طور پر پیش کرنا درست نہیںاخبار نے ’بعض مغربی شخصیات‘ اور ’تائیوان کی آزادی کے حامی عناصر‘ کو قانون کی غلط تشریح کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ پرامن حالات سے جنگی حالات میں منتقلی کی صلاحیت کو ادارہ جاتی شکل دینا ایک عام بین الاقوامی رواج ہے، جسے امریکہ اور یورپی ممالک بھی اپناتے ہیں۔
رینمن یونیورسٹی کے معروف مبصر جن کانرونگ نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ ان ترامیم کا مطلب تائیوان پر حملے کی عملی تیاری نہیں ہے۔
انھوں نے بیرونی مبصرین پر زور دیا کہ وہ اس قانون کی ’ضرورت سے زیادہ تشریح‘ نہ کریں کیونکہ اس کا مقصد صرف بدترین ممکنہ حالات کی صورت میں قومی موبلائزیشن کے نظام کو بہتر بنانا ہے اور یہ کسی مخصوص مسئلے یا ہدف کو مدِنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا۔
تائیوان کے میڈیا میں بحث
تائیوان کے ذرائع ابلاغ، بالخصوص آزادی کے حامی حلقوں سے وابستہ میڈیا، کا کہنا ہے کہ قانون میں کی گئی یہ ترامیم چین کی ’قومی اتحاد‘ کی پالیسی کو آگے بڑھانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں۔
انگریزی زبان کے اخبار تائپے ٹائمز کے مطابق ایک نامعلوم تائیوانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ نئے قانون کا مقصد صدر شی جن پنگ کو ان کے بقول ’قومی اتحاد کے تاریخی مشن‘ کی تکمیل میں مدد فراہم کرنا ہے۔
اس عہدیدار نے تائیوان کی ’دفاعی مزاحمت‘ کا موازنہ چین کی ’جارحانہ مزاحمت‘ سے کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی قانون سازی کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اگر چین کوئی فوجی کارروائی کرے تو اسے اندرونی رکاوٹوں یا بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
تائیوانی مبصرین کے مطابق قانون میں قومی دفاعی موبلائزیشن، شہری وسائل کے فوجی استعمال، سپلائی چین کی تیاری اور جنگی حالات کے لیے معاشی و صنعتی صلاحیتوں کو منظم کرنے سے متعلق نئی شقیں بیجنگ کی اس صلاحیت کو مضبوط بنا سکتی ہیں کہ وہ ضرورت پڑنے پر قومی وسائل کو تیزی سے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر سکے۔
تاہم چینی حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ یہ ترامیم قومی سلامتی اور دفاعی تیاریوں کو بہتر بنانے کے لیے کی گئی ہیں۔
تائیوان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سی این اے کی ایک اور رپورٹ میں یونیورسٹی آف تائی پے کے محقق ہونگ پو چاؤ کے حوالے سے کہا گیا کہ قانون میں کی گئی ترامیم چین کو اپنے ممکنہ اقدامات کے لیے ایک قانونی جواز فراہم کرنے اور تائیوان کے ساتھ ممکنہ تنازع کی صورت میں بین الاقوامی برادری کے سامنے اپنے رویے کو ’معقول‘ قرار دینے کی کوشش کا موقع دے سکتی ہیں۔
ہونگ کے مطابق بیجنگ طویل عرصے سے اپنی داخلی قانون سازی کے ذریعے تائیوان کے مسئلے کو ایک داخلی معاملہ قرار دیتا آیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس قانون میں کی گئی ترامیم کا اطلاق صرف تائیوان تک محدود نہیں سمجھا جانا چاہیے، بلکہ یہ ان دیگر ممالک کے تناظر میں بھی اہم ہو سکتا ہے جن کے ساتھ چین کے علاقائی یا سرحدی تنازعات موجود ہیں، مثلاً فلپائن، بھارت اور جاپان۔
دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس قانون میں ترمیم کے وقت کا انتخاب بھی اہم ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام صدر شی جن پنگ کو اپنی سیاسی گرفت مزید مضبوط بنانے میں مدد دے سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب 2027 میں ان کی جانب سے ایک غیر معمولی چوتھی مدتِ اقتدار حاصل کرنے کے اعلان کی توقعات پر بحث جاری ہے۔