’بیگ اُٹھائے شخص نے چاقو سے حملہ کیا‘: سات ماہ میں 21 سالہ طالبہ سمیت چار خواتین کے قتل کا معمہ

وہ سنیچر کی شب مقامی کلچرل ہاؤس جا رہی تھیں، جہاں وہ قیام پذیر تھیں۔ سکیورٹی کیمروں کی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گھر ممیں داخل ہونے سے کچھ دیر پہلے ایک بیگ اُٹھائے شخص نے ان پر چاقو سے حملہ کیا اور پھر فرار ہو گیا۔

’تعلیم حاصل کرنا موت کی سزا نہیں ہونا چاہیے۔‘

یہ وہ نعرہ ہے جو میکسیکو کی یو اے ای ایم یونیورسٹی کی طالبات لگا رہی تھیں، جہاں سات ماہ کے دوران چار نوجوان خواتین کے قتل پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

تازہ واقعہ گذشتہ ہفتے کواؤتلا میونسپلٹی میں پیش آیا جہاں تبادلہ پروگرام کے تحت سپین سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے والی 21 سالہ کلاڈیا کو قتل کر دیا گیا، جو ایک ماہ سے میکسیکو میں موجود تھیں۔

کلاڈیا ریاستی دارالحکومت کوئرناواکا سے اس میونسپلٹی گئی تھیں تاکہ قدیم نباتات کے ایک میلے میں شرکت کر سکیں۔ یہ وہ موضوع تھا جو اُن کی ساتھی طالبات کے مطابق کلاڈیا کا پسندیدہ تھا اور اسی لیے وہ میکسیکو آئی تھیں۔

وہ سنیچر کی شب مقامی کلچرل ہاؤس جا رہی تھیں، جہاں وہ قیام پذیر تھیں۔ سکیورٹی کیمروں کی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گھر میں داخل ہونے سے کچھ دیر پہلے ایک بیگ اُٹھائے شخص نے ان پر چاقو سے حملہ کیا اور پھر فرار ہو گیا۔

حکام اس معاملے کی تحقیقات خواتین کے قتل (فیمینیسائیڈ، عورت ہونے کی بنیاد پر جان بوجھ کر قتل کرنا) کے طور پر کر رہے تھے، اگرچہ پراسیکیوٹرز کا اشارہ ڈکیتی کی طرف ہے۔

جمعرات کی رات میکسیکو کے سیکریٹری برائے سلامتی نے اعلان کیا کہ فرانسسکو خاویئر جنھیں ’ایل ٹرومپاس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کو ہسپانوی طالبہ کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پراسیکیوشن آفس نے بھی ایک بیان میں کہا کہ مختلف اداروں کی مشترکہ کارروائی کے دوران فرانسسکو خاویئر کو گرفتار کیا گیا۔

حکام کے مطابق انھیں فیمینیسائیڈ کے مقدمے میں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

اس سے قبل میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے طالبہ کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ مختلف ادارے واقعے کی تحقیقات میں تعاون کر رہے ہیں اور خاندان سے رابطے اور انھیں مدد فراہم کرنے کے لیے سفارتی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

خواتین کے قتل کے واقعات میں اضافہ

لیکن طالبات کا غم و غصہ صرف اس یونیورسٹی کی نوجوان طالبات کے قتل کے سلسلے کا نتیجہ نہیں ہے۔

یہ 2026 کے پہلے سات ماہ کے دوران ریاست میں درج 21 فیمینیسائیڈز، پورے میکسیکو میں 380 اور اسی عرصے کے دوران جان بوجھ کر قتل کی شکار 870 خواتین کی وجہ سے بھی ہے۔

طالبات حکام پر غیر ذمے داری کا مظاہرہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ’فیمینیسائیڈ ریاست لرز اٹھے‘ جیسے نعرے لگا رہی ہیں۔

مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق کلاڈیا کی ایک دوست نے انھیں مشورہ دیا تھا کہ ’اگر تم خطرے کی صورتِ حال میں ہو تو بس بھاگ جاؤ‘۔

یہ واضح نہیں کہ وہ بھاگیں یا نہیں۔

ایک پڑوسی نے اسی اخبار کو بتایا کہ اس نے ’مدد‘ کی آوازیں سنی تھیں۔

حملے کے بعد کلاڈیا کلچرل ہاؤس کے اندر کی طرف بھاگیں، جہاں بالآخر وہ گر پڑیں اور اُن کی موت واقع ہو گئی۔

نوجوان کلاڈیا ہائیکنگ کی شوقین تھیں اور میکسیکو میں اپنے ایک ماہ کے قیام سے خوش تھیں، لیکن اب وہ ملک میں خواتین کے خلاف تشدد کی ایک نئی علامت بن گئی ہیں۔

Mexico
Reuters
کلاڈیا کی موت کے بعد طالبات کوئرناواکا میں احتجاج کر رہی ہیں۔

خواتین کے خلاف تشدد کی لہر

اپریل 2025 میں نفسیات کے پانچویں سمسٹر کی طالبہ ایلین روڈریگیز جیوتیپیک میں مردہ پائی گئی تھیں، جب وہ گھر سے یونیورسٹی کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔

اس مقدمے میں ایک شخص گرفتار ہوا تھا۔ اس سال فروری میں کمبرلی راموس نامی طالبہ لاپتا ہو گئی تھیں۔ چامیلیا کیمپس کی 18 سالہ طالبہ کی لاش چند دن بعد ملی تھی۔ بعدازاں ان کے بوائے فرینڈ کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

رواں برس دو مارچ کو 18 سالہ کارول تولیڈو، جو مازاتیپیک میں نرسنگ اور قانون کی طالبہ تھیں، لاپتا ہو گئیں اور بعد میں ان کی لاش ایک شاہراہ پر ملی۔

15 سالہ مشیل فوینتس کے ہائی سکول کی طالبہ اور ادارے کی ایک استاد کی بیٹی تھیں۔ وہ 24 مئی کو یاوتیپیک میں لاپتا ہوئیں اور نو دن بعد تیپوستلان میونسپلٹی میں مردہ پائی گئیں۔

سنہ 2025 میں ایلین کے کیس کو شامل کیا جائے تو ایک سال سے کچھ زیادہ عرصے میں قتل ہونے والی طالبات کی تعداد پانچ ہو جاتی ہے۔

موریلوس میکسیکو کی چھٹی ریاست ہے جہاں خواتین کے خلاف جرائم کی شرح سب سے زیادہ ہے اور خواتین کے قتل کی شرح کے لحاظ سے بھی یہ دوسرے نمبر پر ہے۔

کواؤتلا جہاں کلاڈیا کی موت ہوئی، ان آٹھ میونسپلٹیز میں شامل ہے جہاں 2015 سے صنفی تشدد کا الرٹ نافذ ہے۔

مقامی خواتین تنظیمیں اصرار کرتی ہیں کہ ان واقعات کو ’الگ تھلگ واقعات نہیں سمجھا جانا چاہیے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ میونسپلٹی میں نافذ سکیورٹی آپریشن ’پلان کواؤتلا‘ ناکام ہو چکا ہے۔

Mexico
EPA

قومی بحث

میکسیکو کی حکومت نے سیکریٹری برائے سلامتی کی قیادت میں موریلوس میںپراسیکیوشن دفاتر، پولیس اور فوج کی تعیناتی شروع کی اور یہاں 1700 اہلکار بھیجے گئے اور تقریباً تین کروڑ ڈالر خرچ کیے گئے۔

اس کے باوجود کلاڈیا جیسی ہلاکتیں ہوتی رہتی ہیں جو وفاقی حکومت کے اقدامات کی افادیت پر سوال اٹھاتی ہیں۔

اس ہفتے صدر کلاڈیا نےاپنی انتظامیہ کی دوسری کارکردگی رپورٹ پیش کی، جب وہ منصب پر دو سال مکمل کرنے کے قریب ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ 2018 کے مقابلے میں سنگین جرائم میں 54 فیصد کمی آئی ہے اور اکتوبر 2024 سے قتل کی وارداتوں میں 48 فیصد کمی ہوئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ عدم تحفظ کا احساس سال کے پہلے چھ ماہ میں 64 فیصد سے کم ہو کر 60 فیصد رہ گیا۔

میکسیکو کی صدر کا کہنا تھا کہ خواتین کے خلاف جرائم کی شرح میں 14 فیصد کمی آئی ہے۔ جولائی میں اُنھوں نے ایک قانون پر بھی دستخط کیے ہیں جس کا مقصد 32 ریاستوں میں خواتین کے خلاف جرائم میں 50 سے 70 سال تک قید کی سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

لیکن یو اے ای ایم یونیورسٹی کی طالبات حکومتی اقدامات کو ناکافی قرار دیتی ہیں اور تشدد میں کمی کے اعداد و شمار پر یقین نہیں رکھتیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US