اتنے کامیاب ہونے کے باوجود ڈانگوٹے انٹرویوز میں نرم مزاج دکھائی دیتے ہیں اور اکثر اپنی گاڑی خود چلانے پر اصرار کرتے ہیں۔ سکول کے زمانے میں وہ بڑی مقدار میں ٹافیاں خریدتے، دوسرے بچوں کے ذریعے انھیں فروخت کرواتے اور اس سے ہونے والے منافع میں اپنا حصہ رکھتے تھے۔
علیکو ڈانگوٹے کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی کی توسیع کے منصوبے سے افریقی ممالک کو توانائی کے شعبے میں خود کفیل بننے میں مدد ملے گی۔رواں ہفتے افریقہ کے امیر ترین شخص علیکو ڈانگوٹے نے اپنی آئل ریفائنری کو نائجیریا کے سٹاک ایکسچینج پر لسٹ کروایا ہے، جس کے بعد براعظم افریقہ کی تاریخ میں حصص کی سب سے بڑی فروخت کا آغاز ہو گیا ہے۔
نائجیریا کے ارب پتی کاروباری شخصیت نے نائجیریا کے سٹاک ایکسچینج پر اپنی کمپنی کی لسٹنگ کو ’پیپلز آئی پی او‘ یعنی ’ابتدائی عوامی حصص کے فروخت‘ قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد شہریوں کے لیے ایسا موقع پیش کرنا ہے کہ وہ اس کاروبار میں حصے دار بن سکیں جسے نائجیریا کے بہت سے لوگ پہلے ہی ایک قومی اثاثہ سمجھتے ہیں۔
بین الاقومی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اگر فرخت کے لیے پیش کیے جانے والے تمام 4.1 ارب حصص فروخت جاتے ہیں تو کمپنی کو 1.6 ارب ڈالر کی رقم حاصل ہو گی۔
اس رقم سے کمپنی کو اپنی ریفائنری کی توسیع میں مدد ملے گی۔ یہ ریفائنری پہلے ہی یومیہ تقریباً سات لاکھ بیرل خام تیل پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
حصص کی فروخت کے پہلے روز زیادہ طلب کے باعث سرمایہ کاری کی ایپس کریش ہو گئی تھیں۔
نائجیریا کے مقبول ترین سرمایہ کاری پلیٹ فارمز میں سے ایک، بامبو، ڈانگوٹے کے حصص فروخت کے لیے پیش کیے جانے کے بعد کریش ہو گیا۔پبلک افیئر کے تجزیہ کار جمیل اوباہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے شاذ و نادر ہی نائجیریا کے عوام کو کسی کاروباری موقع کے بارے میں اتنا پُرجوش دیکھا ہے۔
تاہم تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ حصص کی قیمتیں کم بھی ہو سکتی ہیں اور بڑھ بھی سکتی ہیں۔
مالیاتی ماہر ڈاکٹر عبدالرزاق ابراہیم فاگے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’لوگوں کو اتنی ہی رقم لگانی چاہیے جس کے بغیر وہ اگلے تین، چار یا پانچ برس گزار سکیں۔‘
تو ہم علیکو ڈانگوٹے اور ان کے افریقی عوام کے لیے زیادہ خوشحالی اور معاشی خودمختاری کو یقینی بنانے کے وعدے کے متعلق کیا جانتے ہیں؟
علیکو ڈانگوٹے نے بچپن ہی میں کاروباری صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیا تھا۔علیکو ڈانگوٹے کون ہیں؟
فوربز میگزین کے مطابق 69 سالہ علیکو ڈانگوٹے افریقہ کے امیر ترین شخص ہیں۔ 18 ستمبر تک ان کی دولت 51 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی تھی۔
ڈانگوٹے کئی دہائیوں سے نائجیریا کی سیمنٹ، چینی، نمک اور کھاد کی منڈیوں پر نمایاں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
2024 میں ان کے کاروباری گروپ کی مالیت نائجیریا سٹاک ایکسچینج میں درج تمام کمپنیوں کی مجموعی مالیت کا تقریباً ایک تہائی تھی۔
اتنے کامیاب ہونے کے باوجود ڈانگوٹے انٹرویوز میں نرم مزاج دکھائی دیتے ہیں اور اکثر اپنی گاڑی خود چلانے پر اصرار کرتے ہیں۔ سکول کے زمانے میں وہ بڑی مقدار میں ٹافیاں خریدتے، دوسرے بچوں کے ذریعے انھیں فروخت کرواتے اور اس سے ہونے والے منافع میں اپنا حصہ رکھتے تھے۔
ڈانگوٹے کے کاروبار سیمنٹ، چینی اور نمک سمیت متعدد صنعتوں پر مشتمل ہیں۔ان کی والدہ کا خاندان کافی خوشحال تھا اور ان کے پڑنانا اپنی وفات کے وقت مغربی افریقہ کے امیر ترین شخص تھے۔
نائجیریا کے اخبار دی پنچ کے کالم نگار لیکان سوٹے نے بی بی سی ورلڈ سروس کو بتایا کہ ڈانگوٹے کاروباری پس منظر رکھنے والے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔
بزنس میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد ڈانگوٹے نے پانچ لاکھ نائجیرین نائرا (375 ڈالر) کے قرض سے اجناس کی تجارت کا اپنا کاروبار شروع کیا۔ یہ کاروبار بہت کامیاب رہا اور انھوں نے چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں قرض واپس کر دیا۔
آج ان کے کاروباری گروپ میں افریقہ میں سیمنٹ بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ڈانگوٹے سیمنٹ اور ڈانگوٹے آئل ریفائنری شامل ہے۔ ڈانگوٹے ریفائنری نے 2024 میں پیداوار شروع کی تھی اور یہ دنیا کی بڑی ریفائنریوں میں شمار ہوتی ہے۔
ڈانگوٹے ریفائنری کی پیداواری صلاحیت دوگنا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیںڈانگوٹے کرنا کیا چاہ رہے ہیں؟
ڈانگوٹے کی حکمتِ عملی کا مرکز ’درآمدی متبادل‘ رہا ہے، یعنی ان کے کاروبار ایسی اشیا مقامی سطح پر تیار کرتے ہیں جو نائجیریا ماضی میں بیرونِ ملک سے خریدتا رہا ہے۔
افریقہ کے متعدد ممالک کو جو ایک بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنی خام پیداوار کو مقامی سطح پر پراسیس نہیں کر پاتے، جس کی وجہ سے انھیں اپنے خام مال سے تیار کی گئی مصنوعات زیادہ قیمت پر واپس خریدنی پڑتی ہیں۔
اس کے بعد حکومتوں کو اکثر قیمتیں کم رکھنے کے لیے ان اشیا پر سبسڈی دینی پڑتی ہے۔
اگر صارفین تک پہنچنے والی مصنوعات مقامی سطح پر تیار کی جا سکیں تو ایسی سرکاری معاونت کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔
تاہم درآمدی متبادل کی پالیسی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ مسابقت پر پابندیاں قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔
نائجیریا افریقہ میں تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، لیکن ڈانگوٹے آئل ریفائنری کے قیام سے قبل ریفائننگ کی محدود صلاحیت کے باعث ملک کا بیشتر ایندھن درآمد کیا جاتا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ نائجیریا کو صاف شدہ تیل زیادہ لاگت پر واپس خریدنا پڑتا تھا۔
اب یہ ریفائنری نائجیریا کی توانائی کی کھپت کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ فراہم کرتی ہے۔
حصص کی فروخت کے لیے جاری کردہ پراسپیکٹس کے مطابق ڈانگوٹے اپنی ریفائنری کی پیداواری صلاحیت دوگنا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
علیکو ڈانگوٹے کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ تمام نائجیریا کے شہری اس حصص کی فروخت میں حصہ لیں۔اجارہ داری کے الزامات
فلاحی ادارے آکسفیم نے 2024 میں کہا تھا کہ ڈانگوٹے کا نائجیریا کی سیمنٹ انڈسٹری پر ’تقریباً اجارہ دارانہ‘ اثر و رسوخ ہے۔ ادارے کے مطابق تیل کے شعبے میں ان کے کاروباری گروپ کی توسیع نے ایک نئی اجارہ داری کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
تاہم سوٹے کا کہنا ہے کہ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ارب پتی کاروباری شخصیت دراصل اس خلا کو پُر کر رہی ہے جن سے نمٹنے میں حکومت ناکام رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ڈانگوٹے جانتے ہیں کہ حکومت سست ہے۔ سوٹے کے مطابق اس مارکیٹ میں موجود کوئی بھی جرات مند اور جم کر کھڑے ہونے کی صلاحیت رکھنے والا شخص اس صورتحال سے فائدہ اٹھا لے گا۔
2024 میں بی بی سی کے پوڈکاسٹ گڈ بیڈ بلینیئر میں بی بی سی کے کاروباری امور کے مدیر سائمن جیک نے مختلف تنقیدوں کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا تھا ’اجارہ داری ایک ایسا لفظ ہے جو بار بار سامنے آتا ہے۔ انھوں نے سرکاری ملکیت والی اجارہ دار کمپنیوں کو خریدا اور کہا کہ اگر درآمدات کی حوصلہ شکنی کی جائے تو ہم افریقہ، بالخصوص نائجیریا میں ہی سیمنٹ تیار کر سکتے ہیں۔‘
’لہٰذا یہ یقیناً ان پر کی جانے والی تنقیدوں میں سے ایک ہے۔‘

ڈانگوٹے اجارہ داری کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم نے ہمیشہ بڑے پیمانے پر اپنے دعوؤں کو عملی اقدامات سے ثابت کرنے کے لیے سرمایہ کاری کی ہے۔ ’ہم نے نائجیریا اور افریقہ کے دیگر حصوں میں مینوفیکچرنگ کے شعبے میں موجود امکانات کو دیکھا اور اس سے فائدہ اٹھایا، جبکہ دوسرے ایسا کرنے سے قاصر رہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ریفائنری کی توسیع سے خطے میں معاشی خودمختاری کو فروغ ملے گا۔ اگست میں انھوں نے بی بی سی کے پروگرام فوکس آن افریقہ کو بتایا تھا کہ یہ منصوبے گہرا اثر ڈالیں گے اور براعظم کے بعض ممالک کو توانائی کے معاملے میں خود کفیل بنانے میں مدد دیں گے۔
’یہ اس بات کی ضمانت دے گا کہ ممالک کو اپنی ضرورت کی مصنوعات دستیاب ہوں گی۔ وہ دوسروں کے محتاج ہو کر نہیں رہیں گے۔ ریفائنری موجود ہے اور یہ انھی کے لیے ہے۔‘
تاہم سوٹے کا کہنا ہے کہ افریقہ کے بعض حصوں کو ریفائنری کی توسیع کے ذریعے معاشی خودمختاری حاصل ہونے کے دعوے ’شاید مبالغہ آمیز‘ ہیں۔
تاہم ان کے مطابق پیداواری صلاحیت میں اضافے کے بعد بڑے پیمانے پر پیداوار کے فوائد حاصل ہوں گے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔
ڈانگوٹے نے بی بی سی کے پروگرام فوکس آن افریقہ کو بتایا کہ آئل ریفائنری کی مصنوعات سے افریقی ممالک کو فائدہ ہوا ہے۔ایندھن کی قیمتوں سے نائیجیریا کی عوام کو کچھ مالی فائدہ ضرور حاصل ہوا ہو گا، لیکن بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے پیدا ہونے والی دولت کا بیشتر حصہ عام عوام تک نہیں پہنچا۔
نائجیریا کے مرکزی بینک کے سابق نائب گورنر کنگزلے موغالو نے جولائی 2025 میں نائجیریا کے اخبار پریمیم ٹائمز میں لکھا کہ ’ڈانگوٹے کی دولت ان کی ذاتی دولت ہے۔ اس نے نائجیریا کے عوام کو وسیع پیمانے پر یا کسی نمایاں حد تک خوشحال نہیں بنایا۔‘
تاہم انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ایک کاروباری شخصیت کے طور پر ’کیا یہ ان کی ذمہ داری بنتی ہے؟‘
موغالو کے مطابق اس کے برعکس مائیکروسافٹ اور گوگل جیسی کمپنیوں کو مسابقت کے خلاف قوانین سے متعلق مقدمات کے باعث اپنے حریفوں کو مارکیٹ سے باہر کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
انھوں نے لکھا کہ ’نائجیریا اور بیشتر افریقی ممالک میں جو صورتحال دیکھنے میں آتی ہے، وہ یہ ہے کہ چند لوگوں کے پاس بے پناہ دولت جمع ہو جاتی ہے جبکہ اکثریت غربت کا شکار رہتی ہے۔‘
اخباری اشتہارات میں لوگوں کو ریفائنری میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی گئی۔جوش و خروش کے ساتھ تنقید بھی
اکاؤنٹنٹ اور سرمایہ کاری کے تجزیہ کار اولواسینا اولوالیکے نے بی بی سی ورلڈ سروس سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ڈانگوٹے کی کمپنی کی جانب سے افریقہ میں خود انحصاری کو فروغ دینے کی کوششوں نے حصص کی فروخت کے بارے میں جوش و خروش پیدا کرنے میں مدد دی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’پورا ملک ان کے ساتھ کھڑا ہے کیونکہ لوگ اسے صرف نائجیریا ہی نہیں بلکہ مغربی افریقہ اور مجموعی طور پر پورے افریقہ کی معاشی خودمختاری کی جانب ایک قدم سمجھتے ہیں۔‘
تاہم بی بی سی کے سائمن جیک کا کہنا ہے کہ ’یہ الزامات بھی لگائے گئے ہیں کہ ڈانگوٹے شمالی نائجیریا کے کم آمدنی والے افراد کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کرتے اور اپنی دولت کو ملک کے جنوبی حصے میں مرکوز رکھتے ہیں۔‘
ڈانگوٹے کے کاروباروں کو ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے بھی تنقید کا سامنا رہا ہے۔
2020 میں ڈانگوٹے گروپ کے خلاف ان افراد کی جانب سے قانونی کارروائی کی گئی جن کا کہنا تھا کہ ڈانگوٹے کی سیمنٹ انڈسٹری کی وجہ سے انھیں صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ڈانگوٹے سیمنٹ نے اپنے ایک پلانٹ کے اطراف میں رہنے والے افراد کے لیے 2 لاکھ 70 ہزار ڈالر کے معاوضے کا پیکج ادا کیا۔
ایران جنگ سے تیل کی سپلائی میں پیدا ہونے والے رکاوٹوں سے ریفائنری کی مصنوعات کی طلب میں اضافہ ہوا ہےعام افراد کے لیے ایک موقع
ڈانگوٹے کا کہنا ہے کہ وہ عام نائجیرین شہریوں کو آئل ریفائنری کی کامیابی میں شریک ہونے اور ہر کسی کو دولت کمانے کا موقع دینا چاہتے ہیں۔
حصص خریدنے کے لیے کم از کم سرمایہ کاری 5,525 نائجیرین نائرا (4 ڈالر) مقرر کی گئی ہے، جو کئی دیگر حصصی فروختوں کے مقابلے میں کم ہے۔
فروخت شروع ہونے سے قبل نائجیریا کے ذرائع ابلاغ نے ڈانگوٹے کے ایک بیان کا حوالہ دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہر روز نائجیریا کے لوگ ایسی مصنوعات استعمال کرتے ہیں جو صاف شدہ پٹرولیم پر انحصار کرتی ہیں۔ اس آئی پی او کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ لوگوں کو صرف صارف بننے ہی نہیں بلکہ اس صنعتی نظام میں مالک کے طور پر شریک ہونے کا موقع بھی دیتا ہے جو معاشی زندگی کو متحرک رکھتا ہے۔‘
اولوالیکے کا کہنا ہے کہ ایران جنگ سے تیل کی سپلائی میں پیدا ہونے والے رکاوٹوں نے ریفائنری کی مصنوعات کی طلب میں اضافہ کیا ہے، جس سے اس فروخت کے بارے میں جوش و خروش بڑھا ہے۔
انھوں نے کہا ’سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ اس خبر سے بھرے ہوئے ہیں۔‘
تاہم ان کے مطابق بعض تجزیہ کار اس حوالے سے زیادہ محتاط ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اگر موجودہ بلند منافع برقرار نہ رہا تو یہ حصص ضرورت سے زیادہ قیمت پر فروخت شدہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
سرمایہ کاری کے تجزیہ کار اولواسینا اولوالیکے کا کہنا ہے کہ ڈانگوٹے کی کمپنی کی جانب سے افریقہ میں خود انحصاری کو فروغ دینے کی کوششوں نے حصص کی فروخت کے بارے میں جوش و خروش پیدا کرنے میں مدد دی ہے۔پیچھے رہ جانے کا ڈر
ڈانگوٹے کی کمپنی میں کے حصص خریدنے والوں میں عیسیٰ سلیسو بھی شامل ہیں۔ انھوں نے بی بی سی نیوز افریقہ کو بتایا کہ انھوں نے سرمایہ کاری کے لیے اپنی بچت میں سے 50 ہزار نائجیرین نائرا (37 ڈالر) نکالے ہیں۔
سلیسو کا کہنا ہے کہ ’مجھے امید ہے کہ میری یہ تھوڑی سی رقم ایک دن بڑھ جائے گی۔ میں یہ موقع گنوانا نہیں چاہتا کیونکہ میرے جاننے والے بہت سے لوگ بھی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔‘
اس کے برعکس، معاشی ماہر ڈاکٹر عبدالرزاق ابراہیم فاگے نے بی بی سی کو بتایا کہ حصص کی قیمت کم بھی ہو سکتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ لوگوں کو اپنی سرمایہ کاری کا کچھ حصہ کھونا پڑ سکتا ہے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ ممکنہ خریداروں، خصوصاً پہلی بار سرمایہ کاری کرنے والوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وہ اپنی تمام رقم، یا ایسی رقم جس کی انھیں اگلے چند مہینوں میں ضرورت پڑ سکتی ہو، اس میں نہ لگائیں۔