سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے ایم کیو ایم رہنماؤں کی پریس کانفرنس پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم قیادت جو زبان استعمال کر رہی ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایم کیو ایم فتنہ، افراتفری اور 1990ء کی دہائی کی سیاسی راہ پر چلتے ہوئے وہی سیاست واپس لانا چاہتی ہے، تاہم ان کی اس سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول صدیقی 90 کی دہائی کا طرزِ سیاست اپنا رہے ہیں، جبکہ کراچی کو بھتہ خوری، بوری بند لاشوں، اغوا برائے تاوان اور جلاؤ گھیراؤ کی سیاست ایم کیو ایم نے ہی دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم فساد اور فتنے کو ہوا دے کر نفرت کے بیج بو رہی ہے اور لسانی بنیادوں پر ایک بار پھر عوام میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ اردو بولنے والوں کی اکثریت خود کو سندھی سمجھتی ہے۔
انہوں نے صوبوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی اس بارے میں اپنا فیصلہ قرارداد کے ذریعے دے چکی ہے۔ حکومت کو مصنوعی قرار دینے کے موقف پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پہلے اپنا مینڈیٹ ثابت کرے، کیونکہ جب وہ مینڈیٹ کی بات کرتے ہیں تو لوگوں کو ہنسی آتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کی اصلی اکثریت کا سب کو علم ہے اور اگر ان کے پاس واقعی اکثریت ہوتی تو وہ بلدیاتی انتخابات سے فرار اختیار نہ کرتے۔