سری لنکا کے 326 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے تین وکٹوں کے نقصان پر 200 رنز بنا لیے، فخر زمان کی سنچری

ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کرنے والے پاکستان کو پہلی کامیابی کے لیے کافی انتظار کرنا پڑا۔ سری لنکا کے اوپنرز کمیندو مینڈس اور اویشکا فرنینڈو نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی وکٹ کے لیے 86 رنز کی شراکت قائم کی اور اپنی ٹیم کو مضبوط آغاز فراہم کیا۔
cricket
Getty Images

لاہور میں کھیلے جا رہے ون ڈے ٹرائی سیریز کے فائنل میں سری لنکا نے کمیندو مینڈس کی شاندار سنچری اور پاون رتھنائیکے کی عمدہ بیٹنگ کی بدولت 50 اوورز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 325 رنز بنائے اور پاکستان کو جیت کے لیے 326 رنز کا ہدف دیا ہے۔

تاہم ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم کا آغاز اچھا نہیں رہا۔ دلشان مدوشنکا نے ابتدا ہی میں معاذ صداقت اور بابر اعظم کو پویلین واپس بھیج کر پاکستان کو دباؤ میں ڈال دیا۔ معاذ صداقت سات گیندوں پر پانچ رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ بابر اعظم پانچ گیندیں کھیلنے کے بعد بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔

تاہم ابتدائی نقصان کے بعد فخر زمان اور سعد بیگ پاکستان کی اننگز کو سہارا دیا اور 149 رنگز کی پارٹنر شپ بنائی۔

سعد بیگ 27 اوور میں 163 کے مجموعی سکور پر مہیش تھیکشانا کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ انھوں نے انھوں نے 75 گیندوں پر 11 چوکوں کی مدد سے 74 رنز بنائے۔

30ویں اوور میں فخر زمان نے پانچ چھکوں اور نو چوکوں کی مدد سے 84 گیندوں پر اپنی سنچری مکمل کر لی۔ 30 اوورز کے اختتام پر پاکستان نے تین وکٹوں کے نقصان پر 193 رنز بنا لیے ہیں اور اسے جیت کے لیے مزید 133 رنز درکار ہیں۔

سری لنکا کی جانب سے دلشان مدوشنکا اب تک دونوں وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

babar azam
Getty Images

سری لنکا کی اننگز کا احوال

ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کرنے والے پاکستان کو پہلی کامیابی کے لیے کافی انتظار کرنا پڑا۔ سری لنکا کے اوپنرز کمیندو مینڈس اور اویشکا فرنینڈو نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی وکٹ کے لیے 86 رنز کی شراکت قائم کی اور اپنی ٹیم کو مضبوط آغاز فراہم کیا۔

اویشکا فرنینڈو نے 49 گیندوں پر 38 رنز بنائے، جس میں تین چوکے اور ایک چھکا شامل تھا، جبکہ کمیندو مینڈس نے شاندار فارم برقرار رکھتے ہوئے اپنے ون ڈے کیریئر کی پہلی سنچری سکور کی۔ انھوں نے 128 گیندوں پر 131 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں 12 چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔

پاکستان کو 18ویں اوور میں اس وقت بریک تھرو ملا جب سلمان آغا نے اویشکا فرنینڈو کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا۔ سری لنکن بلے باز نے ریویو لیا، تاہم امپائر کا فیصلہ برقرار رہا اور 86 رنز کی شراکت اختتام کو پہنچ گئی۔

پہلی وکٹ گرنے کے بعد پاکستان نے رنز کی رفتار کم کرنے کی کوشش کی۔ حارث رؤف نے تیز اور نپی تلی باؤلنگ کے ذریعے دباؤ بڑھایا، جبکہ سلمان آغا نے اپنی سپن سے سری لنکن بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔

پاکستان کو دوسری کامیابی 22ویں اوور میں ملی جب سری لنکن کپتان کُسل مینڈس نے سلمان آغا کی گیند کو سیدھا واپس کھیلنے کی کوشش کی، لیکن پاکستانی آل راؤنڈر نے برق رفتاری سے ردعمل دیتے ہوئے اپنے سر کے اوپر دونوں ہاتھوں سے شاندار ریفلیکس کیچ تھام لیا۔

کرکٹ تجزیہ کار تیز رفتاری سے آنے والی گیند پر اس کیچ کو فائنل کے اب تک کے بہترین لمحات میں شمار کر رہے ہیں۔

کُسل مینڈس کے آؤٹ ہونے کے بعد پاون رتھنائیکے نے کمیندو مینڈس کا بھرپور ساتھ دیا۔ دونوں بلے بازوں نے تیسری وکٹ کے لیے 146 رنز کی شاندار شراکت قائم کی، جس نے سری لنکا کو بڑے مجموعے کی جانب گامزن کر دیا۔ رتھنائیکے نے 65 گیندوں پر 77 رنز بنائے، جس میں آٹھ چوکے شامل تھے۔

کمیندو مینڈس کی اننگز کا خاتمہ 42ویں اوور میں ہوا جب شاہین شاہ آفریدی نے انھیں ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا۔ اس کے بعد داسن شناکا نے مختصر مگر جارحانہ 17 رنز بنائے، تاہم پاکستانی فاسٹ باؤلرز نے آخری اوورز میں شاندار کم بیک کرتے ہوئے مسلسل وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستان کے باؤلرز نے آخری 10 اوورز میں صرف 86 رنز دیے اور چھ وکٹیں حاصل کر کے سری لنکا کو 350 رنز کے قریب پہنچنے سے روک دیا۔ میزبان ٹیم کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ اور حارث رؤف نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ سلمان آغا نے بھی دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

سری لنکا نے مقررہ 50 اوورز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 325 رنز بنائے اور اب پاکستان کو ٹرافی اپنے نام کرنے کے لیے 326 رنز درکار ہیں۔

سری لنکا کی ٹیم میں کمیندو مینڈس، اویشکا فرنینڈو، کُسل مینڈس (کپتان، وکٹ کیپر)، پاون رتھنائیکے، سہان آراچچیگے، جینتھ لیاناگے، داسن شناکا، دونیتھ ویلالاگے، مہیش تھیکشانا، اسیتھا فرنینڈو، دلشان مدوشنکا شامل ہیں۔

جبکہ پاکستان کی ٹیم میں معاذ صداقت، فخر زمان، بابر اعظم، سعد بیگ (وکٹ کیپر)، سلمان آغا، حسن نواز، عرفات منہاس، فہیم اشرف، شاہین شاہ آفریدی (کپتان)، نسیم شاہ، حارث رؤف شامل ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US