ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) زندگی کے تمام شعبوں کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے تاہم اس کے بڑھتے ہوئے استعمال سے عالمی اور علاقائی امن و سلامتی کو بھی نئے چیلنجز درپیش ہیں۔ مصنوعی ذہانت جدید جنگ میں ایک ’’فورس ملٹی پلائر‘‘ اور دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی کے طور پر نئے دور کا تعین کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مصنوعی ذہانت اور بین الاقوامی سلامتی کے موضوع پر بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے ڈیزائن، تیاری اور انضمام کے تمام مراحل میں انسانی فیصلہ سازی اور کنٹرول برقرار رہنا چاہیے۔ انسانوں کو اے آئی نظاموں کی ساخت، رفتار اور مستقبل کی صلاحیتوں کے تعین میں مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو جاری ہتھیاروں کی دوڑ کا ایک اور میدان بننے سے روکنا ہوگا، اس مقصد کے لیے ضروری حفاظتی ضوابط، قواعد و ضوابط اور عالمی حکمرانی کے فریم ورک تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ فوجی شعبے میں غلط فہمی، غلط اندازوں اور محدود وقت میں فیصلوں کے خطرات سے نمٹنے کیلئے اعتماد سازی اور تحمل کے اقدامات ناگزیر ہیں۔
ڈپٹی وزیراعظم نے کہا کہ مصنوعی ذہانت چند ممالک یا اداروں کی اجارہ داری نہیں بننی چاہیے بلکہ اسے انسانیت کو درپیش مشترکہ مسائل کے حل کےلیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ اے آئی کی ترقی میں عالمی تعاون ضروری ہے تاکہ یہ عمل نمائندہ، جامع، شفاف اور سب کے لیے قابل رسائی ہو۔
اسحاق ڈار نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت غلط معلومات، جعلی خبروں اور سائبر حملوں سمیت موجودہ خطرات کو مزید بڑھا رہی ہے جبکہ ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے اہم تنصیبات پر سائبر حملوں کے امکانات بھی موجود ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ امن و سلامتی کے لیے ان خطرات اور موجودہ خلا کو دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی منتقلی میں رکاوٹیں ڈالنے کے بجائے اجتماعی فوائد پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔ سلامتی کے نام پر اٹھائے جانے والے اقدامات کو ٹیکنالوجی سے محرومی کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
ڈپٹی وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کو ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھانے کی ضرورت کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔ کوئی ایک کمپنی یا ملک مصنوعی ذہانت سے وابستہ تمام خطرات کو اکیلے نہیں سنبھال سکتا جبکہ مسابقتی دباؤ ایسی دوڑ کو جنم دے رہے ہیں جسے محفوظ انداز میں کوئی ایک فریق نہیں جیت سکتا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ اے آئی کی ترقی کی رفتار طے کرنے کا عمل چند ممالک یا اداروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے موجودہ عالمی عدم مساوات اور ٹیکنالوجی کی تقسیم مزید بڑھ سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے خطرات پوری دنیا کو درپیش ہیں، اس لیے ان سے نمٹنے کے فیصلے بھی محدود حلقوں تک نہیں رہنے چاہئیں۔
انہوں نے مصنوعی ذہانت کی ترقی اور عالمی حکمرانی میں تقسیم سے گریز پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اے آئی سے متعلق تمام معاملات کو اقوام متحدہ کے تحت جامع، نمائندہ اور شمولیتی فورمز پر عالمی شرکت کے ساتھ زیر بحث لایا جانا چاہیے۔ پاکستان نے رواں سال جنیوا میں اے آئی گورننس سے متعلق پہلے اقوام متحدہ کے عالمی مکالمے کے انعقاد کا خیرمقدم کیا۔
ڈپٹی وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کے فوائد حاصل کرنے اور اس کے چیلنجز سے باہمی تعاون کے ذریعے نمٹنے کے لیے عالمی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان نے چین کے ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (وائیکو) کے قیام کے اقدام میں بانی رکن کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی ہے جو مصنوعی ذہانت کو سب کیلئے مفید بنانے کی جانب ایک عملی قدم ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مصنوعی ذہانت جیسی تیزی سے ترقی کرنے والی ٹیکنالوجی کے معاملے میں اعتماد سازی کے اقدامات عالمی اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ باہمی بداعتمادی کم کرنے، حادثاتی کشیدگی روکنے اور فوجی و بنیادی اے آئی نظاموں سے متعلق خطرات کو منظم کرنے کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے اور عالمی اے آئی تقسیم کو کم کرنے، مساوی رسائی اور امن و ترقی کے فروغ کیلئے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔