سینیٹری ورکرز کی ہلاکتیں: انسانوں کے گٹر میں اترنے پر مکمل پابندی اور معاوضے کا مطالبہ

image

کراچی پریس کلب میں ’جسٹس فار دی وائسلیس‘ کی نمائندہ سارہ ملکانی، زاہد فاروق اور نعیم صادق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے 10 ستمبر 2026 کو کراچی کے علاقے بھیم پورہ میں گنچی میمن جماعت کی عمارت کے گٹر میں صفائی کے دوران دو سینیٹری ورکرز کی ہلاکت پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران رہنماؤں نے کہا کہ یہ اموات حفاظتی تدابیر کے فقدان کے باعث پیش آئیں اور گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران اسی نوعیت کے واقعات میں کراچی میں آٹھ اور پنجاب میں 18 صفائی کارکن اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اکثر ایسے واقعات کے بعد متوفین کے خاندانوں کو قلیل رقم دے کر قانونی چارہ جوئی نہ کرنے کے رضامندی ناموں پر دستخط کروا لیے جاتے ہیں، جس سے ذمہ دار افراد اور ادارے سزا سے بچ جاتے ہیں۔

رہنماؤں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ قانون سازی کے ذریعے انسانوں کے گٹر میں اتر کر صفائی کرنے پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور تمام صفائی کا کام جدید مشینوں کے ذریعے یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کسی بھی شخص کو گٹر میں اتارنے کو قابلِ دست اندازی پولیس جرم قرار دینے، رضامندی ناموں کے باوجود ریاست کی جانب سے ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے، اور نجی صفائی کارکنوں کا جامع سروے کر کے انہیں متبادل باوقار روزگار اور تربیت فراہم کرنے کی اپیل کی۔

مزید برآں، گزشتہ پانچ سال میں جاں بحق ہونے والے صفائی کارکنوں کے لواحقین کو فی کس 50 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US