"میری بیٹی کو لاپتہ ہوئے 45 روز گزر چکے ہیں۔ رکشہ چلا کر گھر کا خرچ پورا کرتا ہوں۔ پولیس سے مسلسل رابطہ ہے، مگر بیٹی کا کچھ پتا نہیں چل سکا۔ بعض اہلکار مبینہ طور پر رقم کا مطالبہ کرتے ہیں، جو ادا کرنا ممکن نہیں۔ اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ بچی کو تلاش کرکے بحفاظت گھر پہنچایا جائے اور رقم طلب کرنے کے الزام کی بھی تحقیقات کی جائیں۔"
خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے علاقے اضاخیل میں رکشہ ڈرائیور کی کم عمر بیٹی 45 روز سے لاپتہ ہے۔ طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بچی کا سراغ نہیں مل سکا۔
بچی کی بازیابی کے لیے پریشان والد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہے، جس میں وہ ہاتھ جوڑ کر حکام سے مدد کی اپیل کرتا دکھائی دیتا ہے۔
والد کا الزام ہے کہ مقامی تھانے کے بعض اہلکار مبینہ طور پر بچی کی تلاش اور بازیابی کے لیے رقم مانگ رہے ہیں۔ مالی مشکلات کے باعث مطلوبہ رقم فراہم کرنا ممکن نہیں۔
بچی کی گمشدگی نے خاندان کو شدید پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ والد نے چیف جسٹس اور آئی جی خیبر پختونخوا سے فوری نوٹس لینے، بچی کی بحفاظت بازیابی اور رقم طلب کرنے کے الزام کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔