برومن کیتھولک کرسچن کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی ہمک میں مسیحی کمیونٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں خاتون کی میت مقامی قبرستان میں دفن کرنے سے روکا جا رہا ہے، جس کے باعث مسیحی برادری سراپا احتجاج ہے۔
موقع پر ہمک پولیس کی نفری بھی پہنچ گئی۔ مسیحی کمیونٹی کا مؤقف ہے کہ سوسائٹی میں تقریباً 10 کنال اراضی قبرستان کے لیے مختص ہے، تاہم مذکورہ جگہ پر بحریہ ٹاؤن کی جانب سے قبضے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پولیس کی جانب سے مرحومہ کے اہلخانہ پر تدفین کسی دوسری جگہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔
مسیحی کمیونٹی نے وزیراعظم پاکستان، وزیر داخلہ اور آرمی چیف سے معاملے کا نوٹس لینے اور قبرستان میں مرحومہ کی تدفین کی اجازت دلانے کے لیے مدد کی اپیل کی ہے۔
مسیحی برادری کا مطالبہ ہے کہ قبرستان کے لیے مختص اراضی پر مبینہ قبضے کی کوشش روکی جائے اور انہیں اپنی مذہبی رسومات کے مطابق تدفین کا حق دیا جائے۔